ابنا: يمن کے عوام نے دارالحکومت صنعا اور ديگر شہروں ميں مظاہرے کيے اور نعرے لگا کر عبداللہ صالح کي حکومت کو برطرف کيے جانے کا مطالبہ کيا-
يہ مظاہرے ايسے عالم ميں ہوئے ہيں کہ يورپي يونين، خليج فارس تعاون کونسل اور اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کے رکن ملکوں کے نمائندوں کا ايک وفد تعز کے حالات کا جائزہ لينے کے ليے جنوبي يمن کے اس شہر کے دورے پر ہے-
دوسري جانب يمن ميں انقلابي کميٹي نے اقوام متحدہ اور ديگر عالمي اداروں سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ بين الاقوامي عدالتوں ميں عبداللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اس کي جائيداد کو ضبط کرنے کے ليے اپني ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لائيں-
اس کميٹي نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ يمن ميں انساني حقوق کو پامال کرنے والے افراد کي فہرست تيار کرکے ان پر مقدمہ چلايا جانا چاہيے- بيان ميں کہا گيا ہے کہ رواں سال کي ابتدا سے اب تک يمن کے فوجيوں نے ايک ہزار ايک سو بتيس مظاہرين کو قتل کيا ہے-
واضح رہے کہ يمن کے عوام نے جنوري کے اواخر ميں عبداللہ صالح کي بتيس سالہ آمرانہ حکومت کے خلاف اپني تحريک شروع کرکے اس سے اقتدار سے عليحدہ ہو جانے کا مطالبہ کيا ہے.
............
/169