12 دسمبر 2011 - 20:30

آل سعود نے عوام کی نئی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور سعودی حکمرانوں نے سیاسی قائدین اور سرگرم شخصیات کی گرفتاری کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنالیا ہے اور سعودی عرب میں سیاسی تبدیلیوں اور اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے راہنماؤں کو پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قبل ازيں ساٹھ اور بہ‏روايتے سو سے زائد قانوندانوں اور سیاستدانوں سے عوام کے خلاف آل سعود کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کے خاتمے اور حریت پسندوں کو سنائی گئی سزاؤں کی منسوخی نیز سنی شیعہ اسیروں بالخصوص "فراموش شدہ" اسیروں کے نام سے مشہور قیدیوں کی فوری رہائی کا  کا مطالبہ کیا تھا۔آل سعود نے 17 سال قبل بعض شہریوں کو الخبر کے دھماکوں میں ملوث قرار دے کر گرفتار کیا تھا جن سے آج تک کسی کا بھی رابطہ نہیں ہوسکا ہے اور ان پر مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور ان قیدیوں کو "فراموش شدہ" قیدیوں کا لقب دیا گیا ہے۔ ...........

/169-110

سعودی عرب: انقلابی تحریک بدستور جاری ہے/ آل سعود کی حکومت ختم ہونی چاہئے