ابنا: یورپی یونین کے ستائیں ممالک کے درمیان برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران نئے یورپین معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا اور رکن ممالک کے درمیان اختلافات نمایاں ہوکر سامنے آگئے ہیں۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا اصرار ہے کہ یورو کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ایک ہی کرنسی استعمال کرنے والے سترہ ممالک کے درمیان کسی معاہدے پر توجہ دی جانی چاہئے۔
یوریی یونین کے ستائیس ممبر ممالک کی سربراہ کانفرنس برسلز میں ہوئی جس میں یورپ میں قرضوں کا بحران اور یورو کرنسی کو بچانے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔جرمنی اور فرانس نے قرضوں کے بحران سے نکلنے کے لیے مشترکہ تجاویز یورپی یونین کے ممالک کے سامنے رکھی ہیں جس کے تحت تمام ممبر ممالک کو مالیاتی ڈسپلن کا پابند کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے ملک کے خلاف پابندیاں عائد ہو سکیں گی۔
کانفرنس سے پہلے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے سربراہاں کے مابین ہونے والی بات چیت میں کچھ طے نہیں پا سکا اور تمام فریق اپنے موقف پر قائم رہے۔جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ یورو کرنسی اپنا اعتبار کھو چکی ہے اور اسے بحال کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کانفرنس کے شروع ہونے سے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ایسی تجویز کو ویٹو کر دے گا جس سے برطانیہ کے مفادات پر زد پڑتی ہو۔ برطانیہ یورپی یونین کا ممبر ہے لیکن وہ ان سترہ ممالک میں شامل نہیں ہے جن کی کرنسی یورو ہے۔فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے برسلز میں کانفرنس میں شریک ہونے سے چند گھنٹے پہلے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ یورپی یونین کے بکھرنے کا خطرہ کبھی اتنا شدید نہ تھا جتنا اب ہے۔
......
/169