ابنا: نومحرم کی شام تک تیس لاکھ سے زائد عزادار اور زائرین عراق کے دوسرے شہروں سے پیدل چل کے ماتمی دستوں کی شکل میں کربلائے معلی پہنچ چکے تھے۔ اگر چہ اس درمیان راستے میں ان پر انتہا پسند دہشتگردوں نے حملے کئے ، ان کے راستے میں بم کے دھماکے کئے لیکن کوئی بھی چیز ان کے عزم میں رکاوٹ نہ بن سکی اور کئی دن کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد وہ کربلائے معلی پہنچ گئے جہاں انہوں نے شب عاشور سیدالشہدا حضرت امام حسین اور علمدار کربلا حضرت ابوالفضل العباس علیہما السلام کے روضوں اور بین الحرمین میں شب بیداری کی اور عاشور کی صبح تک عزاداری، عبادت اور نوحہ و ماتم میں بسر کی۔
کربلائے معلی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق عاشور کی ظہر تک مزید دسیوں لاکھ زائرین کربلا ئے معلی پہنچ چکے تھے ۔
شہر کربلائے معلی کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت پچاس لاکھ سے زائرین اور عزادار کربلائے معلی میں موجود ہیں۔ روضہ ھای مبارک اور بین الحرمین میں نماز صبح کے بعد سے ہی عزاداری کے جلوس اور ماتمی دستے آنا شروع ہوئے اور یہ سلسلہ پورے دن جاری رہا۔
کربلائے معلی میں عراق کے دوسرے علاقوں سے آنے والے پچاس لاکھ سے زائد عزاداروں کے علاوہ ایران ، ہندوستان اور پاکستان سمیت دنیا کے پچیس سے زائد ملکوں کے کئی لاکھ زائر بھی عاشورا میں شرکت کے لئے کربلائے معلی پہنچے ہیں۔
نجف اشرف ، کاظمین، سامرا، اور بغداد سمیت عراق کے دیگر شہروں اور قریوں میں بھی عاشور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔
شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی لاکھوں سوگواروں نے عاشورا کی مناسبت سے ثانی زہرا حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک میں عاشور کا دن عزاداری اور نوحہ و ماتم میں بسر کیا۔
عاشور کی مناسبت سے لبنان اوردیگر عرب ملکوں میں بھی عزاداری کے جلوس نکالے گئے۔
ہمارے نمائندوں کے مطابق بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں سختیوں اور سرکاری افواج کے تشدد کے باوجود عاشقان محمد و آل محمد نے عاشورا عقیدت و احترام سے منایا اور ماتمی جلوس نکالے۔ ........
/169