4 دسمبر 2011 - 20:30

يمن کے شہر تعز کے حالات بحراني بتائے جاتے ہيں -

ابنا: تعز کے رہائشي علاقوں اور عوام کے اجتماعات پر ہوائي حملوں ميں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمي ہوگئے ہيں - تعزيمن کا دوسرا بڑا شہر ہے جو ان دنوں عوام اور ڈکٹيٹر کے فوجيوں کے درميان جنگ کا ميدان بنا ہوا ہے - رپورٹيں بتاتي ہيں کہ شہر تعز فوجي چھاؤني ميں تبديل ہوگيا ہے - سڑکوں پر ٹينک اور بکتر بند گاڑياں کھڑي ہيں اور گولہ باري اور فائرنگ کي آوازيں پورے شہر ميں گونج رہي ہيں -

ايک رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے معاون عبد ربہ منصور ہادي نے شہر تعز سے فوجيوں کو واپس بلانے کے لئے ايک فوجي کميٹي تشکيل دينے کا اعلان کيا ہے- اسي کے ساتھ محمد سالم باسندوہ نے جنہيں يمن کا وزير اعظم نامزد کيا گيا ہے، اعلان کيا ہے کہ اگر منصور ہادي نے تعز ميں عوام کا قتل عام روکنے کے لئے قدم نہ اٹھايا تو وہ حکومت کي تشکيل پر نظر ثاني کريں گے - اکثر تجزيہ نگاروں نے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے معاون منصور ہادي اور نامزد وزير اعظم محمد سالم باسندوہ کے بيانات کو نمائشي قرار ديا ہے - ان تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ يہ ممکن نہيں ہے کہ تعز اور يمن کے ديگر شہروں پر اتني وسيع کاروائي ان دونوں کي مرضي کے بغير شروع کي گئي ہو-

ايسا لگتا ہے کہ يمن کا ڈکٹيٹر عبداللہ صالح جس نے بظاہر اقتدار اپنے معاون عبد ربہ منصور ہادي کو سونپ ديا ہے کوشش کررہا ہے کہ يمن کو شديد بحران اور خانہ جنگي ميں مبتلا کرکے کسي طرح حالات کا رخ اپنے حق ميں موڑدے -
بعض تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ يمن کے موجودہ حالات اس بات کي تائيد کرتے ہيں کہ خليج فارس تعاون کونسل کا منصوبہ کارآمد نہيں ہے -
اس ميں شک نہيں کہ يمن کے مستقبل کا فيصلہ اس ملک کے عوام سڑکوں پر کريں گے ، اس بات کو يمن کا ڈکٹيٹر عبداللہ صالح بھي جانتا ہے - بنابريں ايسا لگتا ہے کہ وہ عوام کو ميدان سے باہر کرنے کے لئے پوري توانائي سے کام لے رہا ہے - ليکن کيا اس طرح وہ قوم کے ارادوں کو کمزور کرسکے گا؟ تيونس، مصر اور ليبيا کے تجربات اس کي نفي کرتے ہيں -

ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور اس کے طرفداروں کو ان ملکوں سے عبرت حاصل کرنا چاہئے - اب ديکھنا يہ ہے کہ ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور اس کو کسي طرح بچانے کي کوشش کرنے والے کب تيونس، مصر اور ليبيا کے آئينے ميں اپنا مستقبل ديکھتے ہيں اور عوام کے ارادوں کے سامنے سپر انداز ہوتے ہيں- عبداللہ صالح جتني جلدي اس نتيجے پر پہنچ کر اپنے سقوط کا باضابطہ اعلان کردے انتا ہي اس کے حق ميں بہتر ہوگا ورنہ اس کا انجام مذکورہ تينوں ملکوں کے ڈکٹيٹروں سے بدتر ہوسکتا ہے -
........

/169