3 دسمبر 2011 - 20:30

سعودی عرب میں سنسر کی وجہ سے اصل صورت حال باہر کی دنیا تک نہیں پہنچ رہی ہے لیکن نہ صرف مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے سعودی عرب میں وسیع قومی انقلاب کی پیشین گوئی کی ہے بلکہ عالم اسلام کے نامی گرامی سیاستدانوں نے بھی اسی طرح کی پیشین گوئیاں کی ہیں گوکہ یہ حقیقت آل سعود کو بھی معلوم ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2011 کی ابتداء سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک حال ہی میں وہابی سوچ کے حامل وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز کی ولیعہدی کے بعد  نئی صورت اختیار کرگئی ہے اور حال ہی میں اس ملک کے مشرقی علاقوں میں 4 یا پانچ نوجوانوں کی شہادت کے بعد عرب ڈکٹیٹروں کے علاوہ مغربی ممالک بھی وحشتزدہ ہوگئے ہیں کیونکہ یہ تحریک اب سعودی عرب کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور اپوزیشن کی سنی جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب میں سنسر کی وجہ سے اصل صورت حال باہر کی دنیا تک نہیں پہنچ رہی ہے لیکن نہ صرف مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے سعودی عرب میں وسیع قومی انقلاب کی پیشین گوئی کی ہے بلکہ عالم اسلام کے نامی گرامی سیاستدانوں نے بھی اسی طرح کی پیشین گوئیاں کی ہیں گوکہ یہ حقیقت آل سعود کو بھی معلوم ہے۔ ابھی عربی بہار کا آغاز نہیں ہوا تھا، حسنی مبارک اپنے بیٹے کو اور قذافی اپنے بیٹے کو جانشین بنانے کے منصوبے بنا رہے تھے، انہیں یقین تھا کہ ان کی حکومت ابدی ہے اور کوئی طاقت انہیں نہیں ہٹا سکے گی، عوام کو تو ویسے بھی بے بس کرچکے تھے اور عوام سے وہ کسی صورت میں بھی انقلاب کی توقع نہیں کرسکتے تھے لیکن اسی دور میں اور انقلابات سے تقریبا چھ مہینے قبل جون 2010 کے ابتدائی دنوں میں ایک سعودی شہزادے  ترکی بن عبدالعزیز نے دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ "سعودی خاندان کے آمرانہ طرز سلوک کے خلاف ممکنہ فوجی بغاوت یا عوامی تحریک سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سعودی خاندان اقتدار ترک کرکے چلا جائے اور سعودی شہزادے اپنے اہل و عیال کو لے کے ملک چھوڑ دیں اور مغربی ممالک میں چلے جائیں کیونکہ ان کا انجام بھی عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام اور ایران کےسابق شاہ رضا پہلوی جیسا ہی ہوگا اور قبل اس کے، کہ عوام گلی کوچوں میں ان کے سر قلم کرنا شروع کردیں۔انھوں نے کہا تھا: ہمارے خاندان نے اقتدار کی ذخیرہ اندوزی کرکے تمام امور مملکت کو ہائی جیک کرلیا ہے اور اپنے مخالفین کو آزردہ اور بیزار کردیا ہے اور ہمارے خاندان کا اثر و رسوخ ختم ہوکر رہ گیا ہے اور آل سعود خاندان اپنے آپ کو عوام پر مسلط رکھنے کی طاقت کھو چکا ہے۔ چنانچہ اس وقت عراقی آمر صدام حسین اور شاہ ایران محمد رضا پہلوی کا مقدر ہمارے خاندان کا انتظار بھی کررہا ہے۔

ایک شہزادہ دوسروں سے ہوشیار: ترکی بن عبدالعزیز: سعودی حکام ملک چھوڑ دیں

سعودی شہزادے کی کھری کھری باتیں:

آل سعود ٹوٹ پھوٹ کا شکار

ہزاروں شیعہ نوجوانوں نے القطیف میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور یہ مظاہرے عزاداری کے دستوں کی صورت میں ہورہے ہیں۔ آج موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کل رات بھی پانچ نوجوان سعودی افواج کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔ قطیف میں کل کے مظاہرے کے لئے دعوت عام دی گئی تھی اور منطقۃالشرقیہ کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد نے اس مظاہرے میں شرکت کی ہے۔ یہ مظاہرہ آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی کے عنوان سے منتعقد ہوا۔کل آل سعود کے گماشتوں نے مظاہرین کی صفوں کو توڑنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے اتحاد کا مظاہرہ کرکے آل سعود کو اپنی صفوں میں نہیں گھسنے دیا۔ آل سعود کے ذرائع نے کہا ہے کہ مظاہرین کی تعداد پانـچ ہزار تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی۔مظاہرین نے آل سعود کے مسلح گماشتوں کے ہتھیار سے خوفزدہ نہیں ہوئے اور یہ امر آل سعود کے لئے خوف کا باعث بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی قوم موت سے ڈرنا چھوڑ دے تو خوف و ہراس مسلط ڈکٹیٹروں کے دلوں میں گھر کردیتا ہے۔بہرحال القطیف میں مظاہرین نے آل سعود سے شیعہ اور سنی اسیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جو آل سعود کے خوفناک اذیتکدوں میں کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہيں اور ان میں کسی پر اکثر مقدمے کے بغیر پابند سلاسل ہیں یا پھر نمائشی عدالتوں میں وکیل کا حق دیئے بغیر قید کرلئے گئے ہیں۔مظاہرین نے استبدادی آل سعود خاندان سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے سیاسی، معاشرتی، شہری اور معاشی حقوق نیز انسانی وقار کو محترم سمجھے اور حال ہی میں چار بے گناہ نوجوانوں کے قتل پر قوم سے معافی مانگے۔ نوجوانوں نے آل سعود سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بحرین سے اپنے گماشتے واپس بلا لے۔ان کے نعروں میں یہ نعرے بھی شامل تھے: "بحرین ایک خودمختار ملک ہے" اور "جزیرہ نما شیلڈ کی فورسز وحشی ہیں"۔

 ــ شیعہ علماء سے منطقۃ الشرقیہ کے حکمران کی ملاقات کی کہانیقطیف کے امام جمعہ نے انقلابی نوجوانوں کی حمایت اور شہیدوں کے خون کی پاسداری پر زور دیا ہے اور آل سعود کے ہاتھوں نوجوانوں کے قتل کی مذمت کی ہے۔"شیخ عبدالکریم حبیل" نے جمعہ کے روز کہا: سرکاری ذرائع ابلاغ نے منطقۃالشرقیہ کے امیر سے علماء اور مفکرین کے وفد کی ملاقات کے سلسلے میں جھوٹی خبریں شائع کی ہیں؛ اور کہا ہے کہ یہ ملاقات علماء کی درخواست پر انجام پائی ہے جبکہ یہ ملاقات سعودی حکام کی درخواست پر ہوئی ہے جس کا مقصد صرف یہی تھا کہ ذرائع میں اس کو کوریج دی جائے اور لوگوں کو بتادیا جائے کہ علماء حکومت سے ملے ہوئے ہیں؛ چنانچہ یہ ایک مکر و فریب کے سوا کچھ نہ تھا اور یہ فریب ہمارے لئے اس وقت فاش ہوا جب ہم "امیر کے محل" کے دروازے سے گذر کر اندر داخل ہورہے تھے۔ وہاں ہم نے قطیف کے متعدد علماء اور مفکرین اور اکابرین کو بھی موجود پایا جو وہاں بلائے جانے کا مقصد نہیں جانتے تھے اور انہیں ہمیں دیکھ کر حیرت ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ میڈيا والے بھی موجود تھے۔انھوں نے کہا: اس کے بعد یہ خبریں جب ذرائع پر آئیں تو ہم سمجھ گئے کہ یہ ملاقات صرف اس لئے تھی کہ عوام کو باور کرایا جائے کہ ان کے خلاف سعودی اقدامات کو ہماری حمایت بھی حاصل ہے اور یوں نوجوان نسل علماء سے دور ہوجائے۔ انھوں نے کہا: امیر محمد  بن فہد کے پاس بھی اس ملاقات کے لئے کوئی ایجنڈا نہ تھا چنانچہ ہم نے ان سے کہا کہ وہ ہمیں پرامن مظاہروں کی اجازت دیں اور اور برسوں سے پابند سلاسل قیدیوں کو رہا کردیں۔ انھوں نے کہا: آل سعود کی حکومت ملک ميں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے اور اہل تشیع پر دیگر ہم وطنوں کے ساتھ دشمنی کا الزام لگا رہی ہے جس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے آل سعود کی عدالتوں کے بارے میں کہا: یہ نمائشی عدالتیں ہیں اور ان میں ججوں کے عنوان سے بٹھائے گئے افراد میں قضاوت اور فیصلے کی اہلیت نہيں ہے۔ــ مغربی دنیا انسانی حقوق کے دعؤوں کے باوجود آل سعود کے مظالم پر خاموشمغربی ممالک ایک طرف سے تو انسانی حقوق اور جمہوریت کے بہانے ممالک کو بلیک میل کرتے ہيں لیکن حقیقت یہ ہے استبداد اور آمریت ان کی عالمی سلطنت کے وسائل میں سے ہیں، وہ آل سعود کے ہاتھوں عوام پر شدید تری مظالم پر خاموش ہیں۔سعودی تجزیہ نگار "علی الاحمد" نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور یورپی ممالک ایک طرف سے انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں اور دوسری طرف سے وہ انسانی حقوق کے سلسلے میں دوہری پالیسی پر کاربند ہیں اور آل سعود کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف جرائم پر بھی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: کچھ دن پہلے طائف میں ایک نوجوان "خالد الغامدي" کو جیل میں ٹارچر کرکے قتل کیا گیا لیکن کسی نے اس کے بارے میں کچھ کہنے کی زحمت گوارا نہ کی اور اس کے اہل خانہ کو بھی ڈرا دھمکا کر خاموش کرایا گیا۔ انھوں نے کہا: مغربی ممالک سعودی عرب کے حالات سے پوری طرح سے آگاہ ہیں لیکن ان کے مفادات کا تقاضا یہی ہے کہ آل سعود کے تمام اعمال کو جا‏ئز سمجھیں اور مجرمانہ خاموشی کو انسانی حقوق کے قتل پر احتجاج کرنے پر ترجیح دیں۔ انھوں نے کہا: امریکی انتظامیہ انسانیت کے خلاف مجرمانہ کاروائیاں کرنے والوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا استقبال کرتے ہیں لیکن جب سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان کو اپنے دفتروں میں گھسنے کی اجازت تک نہیں دیتے گویا وہ سعودی عرب میں رہنے والوں کے حقوق کو انسانی حقوق ہی نہيں سمجھتے۔

ــ عرب میڈیا بھی سعودی عرب کے مظالم پر خاموشگارڈین نے آج کی دنیا میں جمہوری انقلابات کے حامی ڈکٹیٹر یعنی قطر کے امیر سے وابستہ الجزیرہ چینل کے غیرپیشہ ورانہ رویئے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: سعود عرب میں ہرروز مظاہرے ہورہے ہیں، ہر روز لوگ قتل ہورہے ہیں، اور ہر روز احتجاج ہورہا ہے لیکن الجزيرہ سمیت تمام عرب ذرائع ابلاغ ان واقعات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اس الجزیرہ جو عرب دنیا میں پیشہ ورانہ کارکردگی کا دعوی بھی کرتا ہے نے 20 نومبر کو سعودی عرب کے خونی واقعات کے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ گارڈین نے لکھا: 20 نومبر کو القطیف میں 19 سالہ نوجوان "ناصر المحیشی" قتل ہوا، آل سعود نے اس کی لاش اس کے اہل خانہ کی تحویل میں دینے سے انکار کیا تو وسیع احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جس پر آل سعود نے دوسرے نوجوان "علی الفلیفل" کو بھی قتل کردیا اور جب احتجاج کا سلسلہ مزيد وسیع ہوا تو آل سعود نے دو دوسرے نوجوانوں "منیب العدنان" اور "علی القریرص" کو بھی قتل کردیا لیکن الجزيرہ نے مظآہروں اور عوامی احتجاج کی طرف اشارہ کئے بغیر سعودی پولیس کا موقف پیش کیا اور کہا کہ "سعودی پولیس والوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ان افراد کو گولی ماری ہے"۔ گارڈین نے لکھا: سعودیوں نے اپنے کئے کا جواز پیش کرتے ہوئے القطیف کے واقعات کو ایران کی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا اور یہی وہی حیلے بہانے ہیں جن کا سعودیوں نے بحرین میں فوجی مداخلت کرتے ہوئے، سہارا لیا تھا اور آخر کار آل خلیفہ کی حکومت کے اپنے ہی تفتیشی ٹیم کے سربراہ نے اعلان کیا کہ انہیں بحرین کے کسی بھی واقعے میں ایرانی مداخلت کا کوئی ثبوت نہيں ملا۔

ــ راشد الغنوشی: سعودی عرب میں عوامی انقلاب عنقریبتیونس کی اسلامی پارٹی النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اگر عوامی طاقت کو کچلنے کی کوشش کی تو اس کو بھی عوامی انقلاب کا سامنا کرنے پڑے گا۔ الغنوشی نے واشنگٹن میں مشرق قریب پالیسی اکیڈیمی میں لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ سعودی بادشاہ کو طاقت عوام کے حوالے کردینی چاہیے عوامی اختیارات  کو سلب نہیں کرنا چاہیے۔راشد الغنوشی نے کہا کہ سعودی جوان خود کو تیونس کے جوانوں سے  کم نہیں سمجھتے ہیں لہذا وہ بھی اپنے ملک میں انقلاب اورتبدیلی چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں جاری عوامی احتجاجات میں 4 جوانوں کو گولی مار کر شہید کردی