اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک سعودی شہزادے نے قاہرہ میں اپنی رہائشگاہ میں تین عرب شخصیتوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب بہت اور قطر کے درمیان عنقریب خونریز جھڑپوں اور شدید جھگڑوں کا آغاز ہونے والا ہے۔ان تین عرب شخصیتوں میں سے ایک نے کہا ہے کہ شہزادہ امیر طلال بن عبدالعزیز نے قطری حکام کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر کا حکمران خاندان عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں پر عملدرآمد کررہا ہے۔عرب شخصیت نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر ذرائع کو بتایا: طلال بن عبدالعزیز کی رائے یہ ہے کہ قطر کا آل ثانی خاندان عرب ممالک اور فلسطین کے خلاف اسرائیلی پالیسیاں نافذ کررہا ہے۔طلال نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ آل ثانی خاندان اگلے مرحلے میں ایک فوری اقدام کے ذریعے سعودی عرب کو تقسیم کرکے آل سعود کو مکہ اور مدینہ پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں محدود کرے گا اور سعودی عرب کا ایک بڑا حصہ اردن کے حوالے کیا جائے گا تا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو وہیں بسایا جاسکے۔ طلال نے کہا: امریکہ نے سعودی عرب کی تقسیم منصوبہ بنایا ہے اور اس نے قطر کو اپنے ایجنٹ میں تبدیل کردیا ہے تا کہ سعودی عرب میں امریکی منصوبوں پر عملدرآمد کرے۔ طلال نے سعودی عرب میں حالیہ مظاہروں کو بھی قطر کی سازشوں سے جوڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ سعودی عرب میں آل ثانی کی سازشیں ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں کہ بعض علاقوں میں تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ طلال نے قطر اور اسرائیل کے درمیان قریبی سیکورٹی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شام اور فلسطین سمیت عرب ممالک کے خلاف آل ثانی خاندان کی سازشوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ قطری اور اسرائیلی امریکہ، اسرائیل اور یورپ کی طرف سے ایران کے ساتھ شدید دشمنی میں سعودی عرب کو ایران کے خلاف اگلے مورچے میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔
.......
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کریں:
ــ عاشورائے حسینی کی آمد آمد؛ قطیف میں آل سعود کی فوجیں دوبارہ تعینات