ابنا: حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میمو ، مائیک مولن تک جیمز جونز کے ذریعے پہنچایا گیا، دونوں نے اس کے مندرجات کی تصدیق بھی کی اور یہ معاملہ ملکی خودمختاری، سیکیورٹی اور آزادی کے لیے بہت اہم ہے۔سپریم کورٹ کے دس صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا ہے رحمان ملک نے تسلیم کیاکہ حسین حقانی کا امریکی شہری سے مواصلاتی اور ٹیکسٹ میسج رابطہ رہا، میمو مندرجات کا انکشاف ہونے سے سیاسی حکومت اور دفاعی ایجنسیز میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ مستعفی ہونے والے حسین حقانی سے منفی بات منسوب نہیں کرنا چاہتی ، وہ قابل احترام ہیں، توقع رکھتے ہیں کہ وہ کیس کی سماعت کے دوران کمیشن سے مکمل تعاون کریں گے۔ خفیہ میمورنڈم کے سامنے آنے والے مندرجات کو بھی عدالتی حکم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر درخواستوں میں عائد کیے گئے الزام ثابت ہوجائیں تو میمو اسکینڈل میں جو بھی ملوث ہو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔عدالتی حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ میمو کی تفتیش کے مخالف نہیں تاہم پہلے پارلیمانی کمیٹی کے نتائج کا انتظار کرلینا چاہیے۔
........
/169