30 نومبر 2011 - 20:30

مجلس عزاء سے خطاب میں ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ حسینیت ظلم کے خلاف بغاوت اور غلامی کی زنجیریں توڑنے کا نام ہے، اسلام کے دشمن نہ پہلے حسینیت کو ختم کر سکے ہیں اور نہ اب ان کا کوئی وار گارگر ثابت ہو گا۔

ابنا: پیغمبر اسلام ص کی ذات مبارک تمام مسلمانان عالم کے لئے اتحاد اور بھائی چارے کا محور و مرکز ہے، دنیا میں رہنے والا ہر مسلمان محمد ص کا کلمہ پڑھ کر بھائی بندی کے رشتے میں بندھ جاتا ہے جبکہ نواسہ رسول ص حضرت امام حسین ع صبر و استقامت، اتحاد، شہادت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا ایک ایسا عملی نمونہ ہے جس کی مثال قیامت تک نہیں ملتی۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین علامہ ارشاد حسین خلیلی نے گزشتہ روز  خواجہ فیاض حسین گلبہار میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اگر آج مسلمان حکمران پیغام کربلا کی روح اور فلسفہ کو حقیقی معنوں میں سمجھ کر اپنے لئے مشعل راہ بنائیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو نہ تو جھکا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی طاقت کسی کمزور ملک پر چڑھائی کر سکے گا۔

 انہوں نے کہا کہ حسینیت ظلم کے خلاف بغاوت اور غلامی کی زنجیریں توڑنے کا نام ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی قوتیں حسینیت سے خوفزدہ ہو کر فرقہ واریت کے ذریعے مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کرنی کی کوشش میں لگے ہیں، لیکن اسلام کے دشمن نہ پہلے حسینیت کو ختم کر سکے ہیں اور نہ اب ان کا کوئی وار گارگر ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین ع نے میدان کربلا میں اپنی گردن تو کٹوا دی، لیکن اسلام کا پرچم گرنے نہیں دیا، جو کہ آج ہمارے لئے مثال ہے۔

........

/169