ابنا: علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں ہونے والے واقعہ کے حوالے سے کہا کہ محرم کے دوران فسادات کی سازش کی گئی جس کی شروعات کراچی سے کی گئی ہیں، کراچی کا واقعہ سنی شیعہ مسئلہ نہیں اس میں کسی تیسری قوت کا ہاتھ ہے جو ملکی حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کے لئے اس ماہ کے آغاز سے ہی اقدامات شروع کر دئیے گئے تھے اور ہدایات جاری کر دی گئی تھیں، اس حوالے سے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ رحمن ملک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم دہشت گردی کی جنگ سے متاثر ہیں، اس جنگ میں ہم نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شمسی ائیر بیس خالی کرانے اور سپلائی کی بندش کا فیصلہ واپس لینے کیلئے امریکہ کی طرف سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا، اس فیصلے سے امریکہ کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کا حملہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی پر حملہ سمجھتے ہیں، حکومت نے عوامی امنگوں کے مطابق اقدامات اٹھائے ہیں، نیٹو سپلائی کو فوری طور پر بند اور شمسی ائیر بیس کو 15 روز میں خالی کرنے کا کہہ دیا گیا ہے، یہ موثر جواب ہے اس سے اور موثر ردعمل کیا ہو سکتا ہے، حکومت کے جرتمندانہ فیصلے کو مثبت انداز میں لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نیٹو فورسز کے حملے میں ہمارے جوان شہید ہوئے اس کا کوئی جواز نہ تھا، امریکہ کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان ایک باوقار ملک ہے اور وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کی طرف سے پیپلز پارٹی چھوڑنے اور قیادت کے خلاف بیان بازی کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ یہ جمہوریت کا حسن ہے لیکن مانگے تانگے کے جلسے جلوسوں سے کچھ نہیں ہوتا، فیصلہ ووٹ کے ذریعے ہو گا۔ ........
/169