25 نومبر 2011 - 20:30

ہر مہینہ کے شروع کے مشترک اعمال.

ابنا:  ۱۔ دعاہر مہینے (چاندرات کے) چاند کو دیکھتے وقت جو دعا وارد ہوئی ہیں اس کو پڑھنا چاہئے اور کم سے کم تین مرتبہ اللہ اکبر اور تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہے اور اس کے بعد کہے : الحمد للہ الذی اذھب شھر کذا و جاء بشھر کذا۔ چاند کو دیکھ کر جو دعائیں پڑھی جاتی ہیں ان میں سب سے اچھی دعا، صحیفہ سجادیہ کی ۴۳ ویں دعا ہے (1)۔

۲۔ قرآنسات مرتبہ سورہ حمد پڑھنا (2)۔

۳۔ روزہجن امور کی تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مہینہ میں تین روز روزہ رکھے۔ مرحوم ”علامہ مجلسی“(رحمة اللہ علیہ) نے ”زاد المعاد“ میں بیان کیا ہے : مشہور کے مطابق یہ تین روزے اس طرح رکھنے چاہئیں کہ ہر مہینہ کی پہلی جمعرات، آخری جمعرات اور دوسرے ہفتہ کے پہلے بدھ کو روزہ رکھے (3)۔

۴۔ نمازمہینہ کی پہلی رات: پہلی رات میں دو رکعت نماز پڑھے اس طرح کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ انعام پڑھے اور پھر خدا وند عالم سے دعا مانگے کہ اس کو ہر طرح کے خوف وہراس اور درد سے محفوظ رکھے۔مہینے کا پہلا دن : مہینے کے پہلے دن میں دو رکعت نماز پڑھنا چاہئے ، پہلی رکعت میں حمد کے بعد تیس مرتبہ سورہ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد تیس مرتبہ سورہ قدر (انا انزلناہ فی لیلة القدر) پڑھے اور نماز کے بعد خدا کی راہ میں صدقہ دے جو بھی ایسا کرے گاوہ پورے مہینے خدا کی امان میں رہے گا (4)۔

محرم الحرامماہ محرم کا شمار ، حرام مہینوں میں ہوتا ہے۔اسلام سے پہلے بھی عرب اس مہینہ میں جنگ نہیں کرتے تھے۔ لیکن ماہ محرم ، شیعہ مذہب میں امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کی خونی جنگ ، امام سجاد(علیہ السلام)اور حضرت زینب (علیھا السلام) کے فصیح و بلیغ خطبوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔یہ مہینہ ، خاندان پیغمبر (علیہ السلام) کے تلخ واقعات، کربلا کے شہیدوں پر عزاداری اور تلوار پر خون کی کامیابی کا مہینہ ہے۔ حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ جب ماہ محرم آجاتا تھا تو میرے پدر بزرگوار (امام کاظم (علیہ السلام)) کو کوئی ہنستا ہوا نہیں دیکھتا تھا اور مسلسل غم و الم طاری رہتا تھا ، یہاں تک کہ جب دسویں تاریخ روز عاشورہ آجاتا تھا تو وہ مصیبت وغم اور گریہ کا دن ہوتا تھا۔آپ دوسری جگہ فرماتے ہیں:جو شخص عاشورہ کے دن گریہ وزاری اور غم والم میں بسرکرے گا ، خدا وند عالم ، قیامت کے دن اس کو خوشحال کرے گا۔البتہ یہاں پر عزاداری سے مراد ، پاک و خالص نیت اور غیر الہی کاموں سے پرہیز کرنا ہے۔

قمری سال کا آغازمسلمانوں کے مذاہب میں اختلاف ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی تاریخ کو شروع کرنے پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ہجرت کو قرار دیا ہے، جس طرح پیغمبر اکرم (صلی اللہ و علیہ آلہ) نے اس روز کو تاریخ کا آغاز قرار دیا تھا۔ اگر چہ بعض مورخین اور راویوں نے کہا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ربیع الاول کی کی پہلی یا بارہویں تاریخ کو ہجرت کی تھی(5)۔

محرم نام رکھنے کی وجہمحرم : باب تفعیل سے اسم مفعول ہے ، اس کے معنی حرام ہونے کے ہیں، کیونکہ اس مہینہ میں جنگ ، حرام تھی۔ اور اس کے حرام ہونے کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ”یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ کبیر“(6)۔ اے پیغمبر جب اہل اسلام، آپ سے حرام مہینوں کے بارے میں سوال کریں تو آپ کہیے : حرام مہینوں میں جنگ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ حرام مہینہ قرآن کی آیت کے مطابق چار ہیں: ” ان عدة الشھور عند اللہ اثناع عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منھا اربعة حرم ذلک الدین القیم (7)۔اللہ کی کتاب میں خدا کے نزدیک ، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے کے بعد سے مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے چار مہینہ(ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب) حرام مہینہ ہیں۔یہ قانون ثابت اور باقی ہے (8)۔حوالہ جات۱۔حوادث الایام، ص ۵۔۲۔وقایع الایام، ص ۱۱۔۳۔مفاتیح نوین، ص ۵۷۹۔۴۔مفاتیح نوین، ص ۵۸۰۔5۔ موسوعة المناسبات، ص ۱۵۔6۔ سورہ بقرة ، آیت ۲۱۷۔7۔ سورہ توبہ، آیت ۳۶۔8۔ حوادث الایام، ص ۵۔

.......

/169