25 نومبر 2011 - 20:30

مہمند ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر نیٹو کے ہیلی کاپٹر کی بلا اشتعال فائرنگ سے دو افسروں سمیت 12 سیکیورٹی پاکستانی اہل کار جاں بحق اور 4زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے پاکستانی اہلکاروں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔

ابنا: ذرائع نے بتایا کہ افغان سرحد کے قریب مہمند ایجنسی کی تحصیل بائی زئی میں سیکیورٹی فورسز کی سلالہ چیک پوسٹ پر رات گئے نیٹو کے ہیلی کاپٹر نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ حملے میں دو افسروں سمیت 12 سیکیورٹی اہل کار جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔ دریں اثناء پریس ٹی وی نے بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانی اہلکاروں کی تعداد 25 ہے جبکہ 14 افراد زخمی ہوگئے ہیں اور غیرملکی ذرائع نے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 15 بتائی ہے۔ نیٹو کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اتحادی فوج واقعے سے آگاہ ہے اور اس سلسلے میں مزید معلومات جمع کی جارہی ہیں۔ ادھر پاک فوج کے ایک ترجمان نے بھی تفصیلات بتائے بغیر حملے اور جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مہمند ایجنسی کے تمام داخلی و خارجی راستوں پرسخت چیکنگ شروع کردی اور بائی زئی جانے والے سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردی ہے۔ نیٹو کے حملے پر پاکستان کا امریکا سے شدید احتجاج  نیٹو ہیلی کاپٹر کی سرحدی چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ پر پاکستان نے امریکا سے شدید احتجاج کیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کی ناظم الامور عفت گردیزی نے وزارت خارجہ حکام کو جگا کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ عفت گردیزی نے وزارت خارجہ کے حکام سے کہا کہ پاکستان کے احتجاج کو بلا تاخیر امریکی حکومت تک پہنچایا جائے۔ گورنر خیبر پختونخواہ: نیٹو حملہ ملکی خودمختاری پر حملہ ہےگورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی پر نیٹو افواج حملے کی اعلی سطحی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ پشاور سے جاری بیان میں گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں نیٹو افواج کی بمباری کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو حملہ ملکی خودمختاری پر حملہ ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ واقعہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری پر حملہ ہے۔ جس کی اعلی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں گی۔ ان کاکہناتھا کہ مستقبل میں سرحد پار سے ایسے حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔  واضح رہے کہ نیٹو کی جانب سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر یہ حملہ پہلا حملہ نہیں ہے اور اس قسم کے حملوں پر پاکستانی حکام کا رد عمل بھی ریکارڈ پر موجود ہے لیکن شاید نیٹو والوں کو اس قسم کے حملوں کے بعد کسی بھی عملی رد عمل کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا جس کی بنا پر وہ اپنے حملے جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل بھی نیٹو کے حملوں کے نتیجے میں پاکستان کے راستے سے نیٹو کی سپلائی لائن بند کرنے کی دھمکیاں ذرائع ابلاغ پر منعکس ہوتی رہی ہیں لیکن سپلائی لائن بند نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110