ابنا: امریکی حکام نے پہلے مرحلے میں ایک انتہائي مضحکہ خیز اور بچکانہ ڈرامہ تیار کرکے ایران اور سعودی عرب کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی اور یہ دعوی کیا کہ ایران کوشش کررہا تھا کہ واشنگٹن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر کو کسی صورت قتل کرادیا جائے ابھی یہ انتہائي بچکانہ ڈرامہ مغربی ذرائع ابلاغ کی خوراک بناہی ہوا تھا کہ ایک بار پھر ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کا معاملہ چھیڑ دیا گیا یہ معاملہ چل ہی رہا تھاکہ انسانی حقوق کا گھسا پٹا موضوع بھی اٹھادیا گيا کہ کہیں نہ کہیں سے سہی ایران پر کوئي دباؤ ڈالا جائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ڈرامہ ایک ایسی حکومت کے ذریعے رچا جارہاتھا جو اس طرح کے تمام معاملات میں ملوث ہے اور اس قسم کے گھناؤنے جرائم میں جو یدطولی رکھتی ہے اگر سرکاری شخصیات کو قتل کرنے کی بات ہے تو کون نہيں جانتا کہ خود سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ فیصل کے قتل میں پوری طرح سے امریکا ہی ملوث رہا ہے جہاں تک ایٹمی پرواگرام میں انحراف کی بات ہے تو اول تو یہ کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی بھی طرح کا انحراف پایا ہی نہی گیا اور دوسرے یہ کہ انحراف کی بات امریکا کررہا ہے جس نے انسانی تاریخ میں وہ پہلا اور اب تک کا آخری مجرم بننے کا ریکارڈ قائم کیا ہے جس نے بے گناہ شہریوں پر ایٹم استعمال کیا ہے چنانچہ ہیروشیما اور ناکاساکی کی زمین آج بھی امریکا کے ذریعے گرائے ایٹم بم کے اثرات اگل رہی ہے اور رہی انسانی حقوق کی پائمالی کی بات تو جوامریکی حکومت خود اپنے ہی عوام کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے بری طرح انسانی حقوق کی پائمالی کرتی ہو اور جس کے بدترین امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے آج پورا امریکا وال اسٹریٹ مخالف تحریک کی لپیٹ ميں آچکا ہو اور پرامن مظاہرین کو انتہائي بے دردی کے ساتھ کچل رہا ہو اس کو آخر کہاں سے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں پر انسانی حقوق کی پائمالی کا الزام لگائے ؟
پھر وہی سوال پیدا ہوتا کہ امریکا بار بار ایران کے خلاف اپنے اس طرح کے تکراری دعوؤں اور الزامات کو کیوں دوہرایاکرتا ہے تو اس کا جواب بھی بہت ہی واضح ہے کہ انیس سواناسی میں حضرت امام خمینی کی قیادت میں ایران میں آنےوالے اسلامی انقلاب نے پورے خطے میں امریکا اور اسلام دشمن قوتوں کے ناپاک منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور سب سے پہلے اسلامی انقلاب نے ایران سے امریکا کے ہاتھ قلم کئے ۔ سامراجی طاقتوں کو شروع دن سے یہ معلوم تھا کہ یہ اسلامی انقلاب صرف ایران کے عوام کا ہی انقلاب نہیں ہے صرف روٹی کپڑے اور مکان کے نعروں والا انقلاب نہيں ہے بلکہ یہ مکمل طور پر ایک نظریاتی انقلاب ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا میں بالعموم اور تیل کی دولت سے مالامال عالم اسلام کے ملکوں میں خاص طور پر مرتب ہوں گے اور پھر خطے میں بیداری کی ایک ایسی لہر اٹھے گی جو اپنے ساتھ سامراجیت اور صہیونیت کو ایک ساتھ بہا لے جائے گی ۔ چنانچہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مسئلہ فلسطین جو قومیت کی بنیاد پر تقریبا فراموش کیا جاچکا تھا اس کو پوری طرح اسلامی رنگ مل گیا اور فلسطینی عوام نے اپنی تحریک کو اسلامی و الہی رنگ دے کر اس میں جان ڈال دی اور اب جبکہ اسلامی انقلاب کے اثرات پور ے خطے پر پوری طرح مرتب ہوچکے تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ عالم اسلام میں پوری طرح سے اسلامی بیداری کی لہر پھیل چکی ہے اور ہرطرف سامراجیت اور اس کے پٹھوؤں اور استبداد و صہیونیت کے خلاف ہی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہيں اور مصر و تیونس و لیبیا و یمن سمیت عالم اسلام کے ملکوں ميں جہاں جہاں بھی لوگ تحریکيں چلارہے سب کا یہی کہنا ہے کہ ہم نے بتیس سال قبل ہی ایران کے اسلامی انقلاب کی تحریک سے سبق حاصل کرلیا تھا اور اب اس کو عملی جامہ پہنا رہے ہيں یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے اسلامی بیداری کی لہر میں شدت آتی جارہی ہے اور سامراجی طاقتوں کے علاقائی مہرے یکے بعد دیگر ے منہ کے بل گرتے جارہے ہيں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جو اس وقت اسلامی بیداری کی لہر کا سرچشمہ بنا ہوا ہے اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں میں بھی اضافہ اور شدت آتی جارہی ہے ۔ مگر سازش اور ڈرامہ رچنےوالوں اور ان کے ڈراموں میں کردار ادا کرنےوالوں کو خواہ ان میں سعودی عرب ہی کیوں نہ ہو شاید اس بات کا علم نہيں ہے کہ اس طرح کےجھوٹے اور بے بنیاد دعوے گذشتہ بتیس برس سے ایران کی عظیم قوم پر لگائے جارہے ہيں لیکن ملت ایران اس طرح کی ہنگامہ آرائیوں کی پرواکئےبغیر اپنے اعلی ہدف کے راستے پر گامزن ہے وہ اعلی ہدف یہی ہے کہ ملت ایران اپنے الہی اور اسلامی نظریات پر تکیہ ہوئے اقوام عالم کو یہ پیغام دے رہے ہيں کہ وقت آگیا ہے کہ اب انسان دشمن قوتوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حقوق حاصل کرو اور آج عالم اسلام کی سطح پر جو اسلامی بیداری کی لہر کا پرچم لہرا رہا ہے وہ ملت ایران کے اسی آفاقی پیغام کا واضح نتیجہ ہے ............
/169