20 نومبر 2011 - 20:30

بوئنگ کمپنی نے زیرزمین خفیہ ٹھکانوں کوتباہ کرنے کے لئے تیرہ اعشاریہ چھ ٹن وزنی بم کی پہلی کھیپ امریکی فضائیہ کےحوالےکردی ہے۔

ابنا: پریس ٹی وی نے لاس اینجلس ٹائمز کےحوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ بم جو عظیم اسلحوں کی زرہ(massive ordnance penetrtor) کے نام سے مشہور ہوگیا ہے، اسلحہ ڈپو میں موجود دوسرے بموں سے تقریبا پانچ ٹن زيادہ وزنی ہے۔امریکی فوج نے جی پی ایس سسٹم سے گائیڈ کئے جانے والے اس بم کو بنانے کے لئے تین سو چودہ ملین ڈالر خرچ کئے ہیں۔لمبی دوری تک پرواز کرنے والے بوئنگ کمپنی کےاسٹراٹوفورٹس بی باون اور نورٹروپ گرامن کمپنی کے بمبار بی ٹو اس بم کےذریعے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتےہيں۔

رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطی کے ممالک کو مسلح کرنےکی کوششیں تیز کر دی ہيں اور دنیا کےاس اہم حصےميں اسلحےکی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔امریکہ نےابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو براہ راست مشترکہ یلغار کے لئے چار ہزار نو سو جنگی ساز و سامان اور دوسرے اسلحے بیچنےکی پیشکش کی ہے۔امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت نے اسی طرح حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب بحرین عمان قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ دسیوں ارب ڈالر کے فوجی معاہدے کیے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ استبدادی اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی حمایت اور انہیں فوجی ہتھیاروں کی فروخت علاقے میں جمہوریت کی حمایت میں امریکی دعووں سے تضاد رکھتی ہے۔........ /169