18 نومبر 2011 - 20:30

افغانستان میں جاری لویہ جرگہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور قیام امن کے مسائل پر غور کیا جا رہا ہے۔

ابنا: لویہ جرگہ کی ترجمان صفیہ صدیقی نے کہا کہ مذاکرات کے تعلق سے جرگے کی شخصیات کے درمیاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ادھر افغانستان امن کونسل کے رکن اسماعیل قاسم یار نے اس بارے میں کہا کہ لویہ جرگہ کے بہت سے ارکان منجملہ تغیر و امید اتحاد کا یہ خیال ہے کہ امن کونسل کے سابق صدر برہان الدین ربانی کے قتل سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ موجودہ روش بے سود ہے۔ قاسم یار نے کہا کہ لویہ جرگہ کو عالمی برادری پر دباو ڈالنا چاہیے کہ جو ممالک افغانستان میں مداخلت کر رہے ہیں اور طالبان کو ٹریننگ دیتے ہیں اور انہیں دہشت گردانہ کاروائيوں کے لئے لیس کرتے ہیں، ان کے خلاف اقدامات کئے جائيں۔

اطلاعات ہیں کہ امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کا طالبان کےساتھ خفیہ رابطہ ہے اور یہی ممالک طالبان کو ہتھیار دے رہے ہیں۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے طالبان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے افغانستان پرحملہ اور قبضہ کیا ہے۔ طالبان نے افغانستان حکومت کی قیام امن کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ ادھر لویہ جرگہ کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ ریڈیوتہران کی پشتو سروس کے مطابق جرگے کے رکن حبیب اللہ رفیع نے کہا ہے کہ جرگے کے اراکین امریکہ کے ساتھ اسٹراٹیجک معاہدے کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدرکرزئي نے جرگے کو مذاق بنا دیا ہے اور بلا وجہ تین چار دنوں سے کابل میں معمول کی زندگي معطل کر دی ہے جس سے لوگوں کی زندگي اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کے اسٹریٹجک معاہدے کے مسودے میں صرف افغانستان کی شرطیں لکھی گئي ہیں اور ا مریکہ کی کوئي شرط بیان نہیں کی گئي ہے جس کےبعد لویہ جرگہ میں متفقہ طور پر یہ کہا گيا کہ چونکہ ہمیں امریکی شرائط کا علم نہیں ہے لہذا اس تعلق سے کوئي فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔........... /169