18 نومبر 2011 - 20:30

حماس اور الفتح کی جانب سے قومی مصالحتی معاہدے پر عمل درآمد کی کوششوں کے موقع پر امریکہ نے فلسطین کی نام نہاد خودمختار انتظامیہ کو دھمکی دی ہے کہ اسکی مدد بند کر دی جائے گي۔

ابنا: فلسطین الیوم ویب سائٹ کے مطابق امریکہ نے محمود عباس کےنام ایک توہین آمیز خط میں حماس کے ساتھ قومی آشتی معاہدے پر عمل درامد کی بابت خبردار کیا ہے۔ ادھر امریکہ کےنائب وزیرخارجہ بل برنز گذشتہ روز مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) پہنچے تھے جہاں انہوں نے پہلے محمود عباس اور بعد میں صیہونی وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔دوسری طرف صہيونی وزیراعظم نیتن یاھو نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس کی شراکت سے فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت تشکیل پاتی ہے تو فلسطین کی آمدنی کو ہمیشہ کے لئے روک دیا جائے گا۔

ادھر فلسطین کی قانونی حکومت کے مشیر احمد یوسف نے کہا ہے کہ فلسطین کے وزیر اعظم کا ہیڈ کوارٹر غزہ میں ہوگا۔ احمد یوسف نے کہا کہ حماس اور الفتح نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ حکومت کا مرکز غزہ میں ہوگا اور اس بات کا بھی امکان ہے وزیر اعظم کو بھی غزہ ہی سے منتخب کیا جائے گا۔ انہوں نے قاہرہ میں محمود عباس اور خالد مشعل کی مجوزہ ملاقات کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ حماس اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے کی فلسطینی انتظامیہ کی کوششوں کی حمایت کرے گي۔ انہوں نے بتایا کہ محمود عباس بہت جلد غزہ کا دورہ کریں گے۔.......... /169