13 نومبر 2011 - 20:30

مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے عزاداری سیل کے زیر اہتمام امام بارگاہ گلشن زہرا لاہور میں منعقدہ دوسری سالانہ تحفظ عزاداری کانفرنس کے اختتام پر اتفاق رائے سے بارہ نکاتی قرارداد پاس کی گئی.

ابنا:‌مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے عزاداری سیل کے زیر اہتمام امام بارگاہ گلشن زہرا لاہور میں منعقدہ دوسری سالانہ تحفظ عزاداری کانفرنس کے اختتام پر اتفاق رائے سے بارہ نکاتی قرارداد پاس کی گئی ، کانفرنس میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے تین سو سے زائد مندوبین کے علاوہ لاہور کی مختلف تنظیموں اور ماتمی انجمنوں کے سربراہان ، بانیان مجالس اور معززین شہر کی بڑی تعداد موجود تھی ، بارہ نکاتی قرارداد کامتن یہ ہے

قرارداد

١۔آج کا یہ اجتماع حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ عزاداری امام حسین کے حوالے سے عزاداروں کی آسانی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہدیات جاری کی جائیں ۔٢۔پنجاب بھر کا یہ نمائندہ اجتماع حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ شیعہ علما ء و ذاکرین پر محرم الحرام کے دوران خطاب اور ضلع بندی کی پابندی نہ لگائی جائے ۔ ٣۔بعض مقامات پر دیکھنے میں آیا ہے کہ مقامی انتظامیہ چار دیواری کے اندر بھی مجالس عزا برپا کرنے پر حیل و حجت سے کام لیتی ہے ، آج کا اجتماع حکومت کو باور کراتا ہے کہ چار دیواری کے اندر مجالس عزابرپا کرنے سے روکنا خلاف قانون عمل ہے ، پنجاب حکومت مقامی انتظامیہ کو اس امر سے باز رکھے ۔٤۔آج کا یہ نمائندہ اجتماع اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ عزاداری کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی ۔٥۔آج کا یہ اجتماع حکومت پنجاب اور انتطامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ مجالس عزا اور جلوسوں میں شرکت کرنے والے مومنین کی حفاطت کے خصوصی انتظامات کیے جائیںلیکن یہ انتظامات جلوسوں میں شرکت کرنے والوںکے لیے باعث زحمت نہ ہوں ۔٦۔آج کا یہ عظیم اجتماع حکومت پنجاب اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ شیعیان علی کے مسائل کے حل کے لیے صرف تشیع کے حقیقی نمائندوں سے گفت و شنید کی جائے ۔٧۔آج کا یہ اجتماع حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ نئی آبادیوں میں امام بارگاہ اور شیعہ مساجد کے لیے جگہ مختص کی جائے ، نیز آبادی کے بڑھتے ہوئے دبائو کی وجہ سے جلوس عزا کے نئے لائسنس بھی جاری کیے جائیں ۔٨۔آج کی یہ تحفظ عزادار کانفرنس حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ عزاداروں کی دلآزاری کرنے والا لٹریچر فی لفور ضبط کیا جائے،نیز شیعیان حیدر کرار کے مسلمہ عقائد کی توہین کرنے والے افراد کو شر انگیزی سے روکا جائے اور انہیں کڑی سزا دی جائے ۔٩۔آج کا یہ نمائندہ اجتماع حکومت پنجاب اور ہوم ڈیپاٹمنٹ سے مطالبہ کرتا ہے کہ غلام رضا نقوی کو فوری طور پر طبی سہولیات مہیا کی جائیں جو اس وقت ناکافی ہیں ۔١٠۔آج کا یہ نمائندہ اجتماع مرکزی حکومت ، چاروں صوبائی حکومتوں ، نیز کشمیر اور گلگت کی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ کسی ایسے ضابطہ اخلاق کو نافذ نہ کیا جائے ، جو کسی بھی فرقے کے مسلمہ عقائد کے خلاف ہو، خواہ اس پر تمام مسالک کے علامء کے دستخط ہی موجود کیوں نہ ہوں ، کیونکہ مسلمہ عقائد کو تبدیل کرنے کا اختیار کسی بھی عالم کے پاس نہیں ہے ۔١١۔آج کا یہ نمائندہ اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ محرم الحرام کے دوران پورے ملک کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرادر دیا جائے-

١٢۔دفاعی اداروں کے ملازمین کو نماز جمعہ اور عزاداری کے لیے جگہ فراہم کی جائے ۔

...........

/169