6 نومبر 2011 - 20:30

یہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسلامی آثار مٹانے کے لئے معرض وجود میں آنے والی "وہابی ـ امریکی ـ صہیونی" مثلث کو ان مذموم شیطانی مقاصد سے روکے اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔

سعودی عرب نےمقدس مقامات کےانہدام کا جو سلسلہ شروع کیا ہے۔اس کا بغور جائزہ اگر لیا جائے۔تو اس کی بھی ایک تاریخ بن گئی ہے۔جس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو سعودی عرب نے اسلام کے نام ونشان مٹانے کیلئے کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کا جائزہ لے لیں کہ سعودی عرب یہ سب کچھ کیوں اور کس کے کہنے پر کررہا ہے۔ ہمیں تہذیبوں کے تصادم کے نظریئے کا ایک جائزہ لینا چاہئے۔ تہذیبوں کا تصادم نامی کتاب جو ایک مغربی اسکالر "سیموئل ہنٹنگٹن" نے لکھی ہے۔ وہ اس وقت منظر عام پر آگئی ۔جب مغرب نے دنیا کی سیاست اورمعیشت کو مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ کیونکہ مغرب نے ساری دنیا پر اپنی برتری قائم کرنے کےلیے دنیا کے تین اہم شعبوں کو اپنے زیرتسلط لانے اور اس کو ساری دنیا میں اپنے ہی مرضی پر چلانے کے لیے ہنگامی طور پر کام شروع کیا تھا۔ جس میں سیاست اور معیشت پر کام تقریبا مکمل ہوچکا تھا۔ لیکن تہذیب و ثقافت پر ابھی کام شروع کرنا تھا۔ اس کے آغاز کے لیے سب سے پہلے اس کتاب کو منظر عام لا کر یہ بحث اپنی ہی دجالی میڈیا پربہت تیزی سے شروع کی۔کہ پوری دنیا میں ایک ہی تہذیب و ثقافت ہونی چاہئے۔ لہذا پھر تو ساری دنیا میں مغربی تہذیب وثقافت پھیلانے اور اس کو ہر جگہ پہنچانے کے لیے دھڑادھڑ کام شروع ہوگیا۔ افغانستان پر قبضہ کرکے وہاں سب کچھ تہس نہس کیا گیا عراق پر قبضہ کرنے کے فورا بعد جس چیز پر سب پہلاحملہ انھوں نے کیا وہ تھے عراقی آثار قدیمہ،جن میں سے زیادہ تر چند ہی دنوں میں چوری ہوگئے۔اس کے علاوہ ایسے مقامات جو اسلام کی عظمت کی نشانیاں تھے۔اُن کو بم دھماکوں کی ذریعے اُڑا دیا۔ حتی کہ اس کی پوری کوشش کی گئی کہ عراق میں جتنا بھی اسلام کا ثقافتی ورثہ ہے اُس کو بنیاد سے ختم کیا جائے۔ زیارات سامرہ اسکی زندہ مثال ہے۔اسی طرح پوری دنیا میں یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔سعودی عرب میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔دنیا اسلام کا قیمتی تہذیبی و ثقافتی و مذہبی ورثہ سعودی عرب میں موجود ہے۔ جو اسلام کی عظمت کی علامت ہیں لہذا مغرب امریکہ و صیہونی یہ جانتے ہیں کہ مشرق وسطی میں جو کچھ ہوگیا اور ہورہا ہے۔ اس سے معلوم  ہورہا ہے کہ بہت جلد ہی سعودی بادشاہت بھی ڈوبنے والی ہے۔ لہذا یہ چاہتے ہیں کہ وہابی مفتیوں اور سعودی حکومت کے ذریعے جلد از جلد وہ سب کچھ ختم کیا جائے۔ جس سے  اسلام کی عظمت وبلندی کا اظہار ہوتا ہو۔مغربی تہذیب وثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کیلئے، مغربی یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسے تہذیبی و ثقافتی آثار نہ ہوں جن سے مغربی تہذیب کی وقعت میں کمی آتی ہو۔لہذا پوری دنیا میں اسلام ہی ایک ایسی تہذیب و ثقافت رکھتا ہے جو ہر لحاظ سے ایک مکمل حیات انسانی کا لائحہ عمل پیش کرتی ہے۔لہذا اسلَئے پہلے مرحلے میں ہمارے مقدس مقامات کو مٹانے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس کام کیلئے سعودی مفتیوں کرائے پر لیا ہِیں۔ سعودی مفتی فتوی دیتے ہیں اور سعودی حکومت اس پر عمل کرکے وہی کچھ سرانجام دیتے ہیں۔مصر میں بھی حالیہ دنوں میں انھوں نے یہی کام شروع کیا ہے۔ لیکن وہاں کے غیور مسلمانوں نے اس کا راستہ روکا ہوا ہے۔اب یہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اسلامی آثار مٹانے کے لئے معرض وجود میں آنے والی "وہابی ـ امریکی ـ صہیونی" مثلث کو ان مذموم شیطانی مقاصد سے روکے اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110