ابنا: ميدان عرفات ميں مشرکين سے برائت کي عظيم الشان تقريب منعقد ہوئي جس ميں دنيا بھر کے عازمين حج نے شرکت کي۔دنيا بھرسے آئے ہوئے عازمين حج نے آج حج کے رکن اعظم يعني وقوف عرفات کے دوران مشرکين سے برائت کا بھي اعلان کيا، اس موقع پر صحرائے عرفات ميں ايک قرارداد بھي پڑھ کر سنائي گئي اور حجاج کرام نے اپنے ہاتھ اٹھاکر اور نعرہ تکبير لگاتے ہوئے اسکي منظوري دي۔ اس قرارداد ميں کہا گيا ہے کہ خداوند متعال نے اپنے بندوں کو سرزمين وحي تک آنے اور صحرائے عرفات ميں ہونے والي اس ضيافت الہي ميں شرکت کي توفيق عطا کي ہے تو زائرين بيت اللہ الحرام اتحاد امت کے اس قابل فخر دور ميں، مشرکين سے اعلان بيزاري کي قراني آواز پر لبيک کہتے ہوئے، کفر ، شرک اور نفاق کي تمام علامتوں کے مقابلے کے لئے اپني تياري کا اعلان اور اپنے اصولي موقف کو بيان کر رہے ہيں۔اس قرار داد ميں آيا ہے کہ حجاج کرام اسلام کے پرچم تلے ، اپنے وقار کے احياء اور اپنے مذہبي و اسلامي تشخص کو محفوظ رکھتے ہوئے، امريکي استبداد اور تسلط کے خلاف مزاحمت اور غاصب صہیوني ریاست کے خلاف جدوجہد کو خطے ميں پيدا ہونے والي اسلامي بيداري کا اہم اصول سمجھتے ہيں اور اسلام کي عظمت رفتہ کے احياء ،امت واحدہ کي تشکيل اور اسلامي سماج کے قيام کي خوشخبري قرار ديتے ہيں۔اس قرار داد ميں فلسطيني عوام کي حمايت ميں ہونے والي پانچويں کانفرنس ميں قائدانقلاب اسلامي کي سفارشات پر زور ديتے ہوئے فلسطين کو ايک متحدہ اور اس سرزمين کے اصل باشندوں کا ملک قرار ديا گيا ہے اور ہر ايسے منصوبے کو مسترد کيا گيا ہے جس ميں اسرائيل کو قانوني حثيت دينے اور فلسطينيوں کے حقوق کو نظراندازکر کے فلسطيني کے حصے بخرے کرنے کي بات کي گئي ہو۔حجاج کرام نے اس قرار داد ميں اسرائيلي سفارت خانے پر مصري عوام کے قبضے کے انقلابي اقدام کي حمايت اور شرمناک کيمپ ڈيوڈ معاہدے کو منسوخ قرار ديتے ہوئے ، ديگر ملکوں کي انقلابي قوتوں سے اپيل کي ہے کہ وہ بھي اسرائيل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کرانے کے لئے راست اقدام کريں گے۔اس قرار اداد ميں کہا گيا ہے کہ آج پورا عالم اسلام ، عراق اور افغانستان قبضے، عالم اسلامي ميں بحرانوں کو ہوا دينے، تحريک مزاحمت کو ختم کرنے کي غرض سے مشرق وسطي کو عدم استحکام سے دوچار کرنے، اپني پٹھو حکومتوں کي حمايت اور بحرين اور يمن کے عوام کے قتل عام کو امريکہ کي سامراجي خو اور تسلط پسندانہ پاليسيوں نيز مغرب کے لشکر کشي کا نتيجہ سمجھتا ہے۔اس قرار داد ميں ساري دنيا کے مسلمانوں سے اپيل کي گئي ہے کہ اسلامي اتحاد و يکجہتي کو محفوظ رکھتے ہوئے اور اپنے مذہبي فريضے اور ديني ذمہ داريوں پر عمل کرتے ہوئے دنيا سے تسلط پسندانہ نظام کے خاتمے کے بارے ميں وعدہ الہي کي تکميل کا راستہ ہموار کريں۔......../169
4 نومبر 2011 - 20:30
News ID: 276690
پچيس لاکھ فرزاندان توحيد نے آج ميدان عرفات ميں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کيا ہے جہاں سے وہ اب مزدلفہ کے لئے روانہ ہو رہے ہيں جہاں وہ مغرب اور عشاء کي نماز ايک ساتھ ادا کرنے کے بعد ايک رات قيام کريں گے-