اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر سعید جلیلی نے ہزاروں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سیکریٹری جنرل کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کرے گا کہ بین الاقوامی کنونشن کے مطابق امریکہ کی طرف سے دہشت گردوں کی مالی پشت پناہی اور دہشت گردی کی براہ راست ہدایت پر مبنی ناقابل انکار و تردید دستاویزات اس عالمی ادارے کے تمام اراکین تک پہنچادیں اور امریکی حکام کا مؤاخذہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں قرار دیں۔ انھوں نے 13 آبان (4 نومبر) کی مناسبت سے عالمی استکبار کے خلاف قومی جدوجہد کے دن سابقہ امریکی جاسوسی کے گھونسلے کے سامنے اجتماع کرنے والے ہزاروں طلبہ اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ربوبیت" کا موضوع مستکبرین کے خلاف انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد اہم ترین موضوع تھا اور ربوبیت کا مفہوم ہی مستکبرین کی جانب سے انبیاء علیہم السلام کی وسیع مخالفت کا سبب تھا۔ڈاکٹر جلیلی نے کہا: ربوبیت کا مفہوم انبیاء اور طواغیت کے درمیان جھگڑے کا سبب ہے اور مستکبرین کا سب سے پہلا موضوع یہ ہے کہ معاشروں کی سیاست اور باگ ڈور کس کے پاس ہونی چاہئے؟ اور طواغیت اور فرعونوں کا انبیاء علیہم السلام سے سب سے پہلا سوال یہی تھا اور وہ پوچھتے تھے کہ کون ہے جو آپ کو ربوبیت کا قائل سمجھے؟ ان کا کہنا تھا کہ انبیاء کو ایسا پیغام نہیں دینا چاہئے جو معاشروں کے سیاسی اور انتظامی امور سے تعلق رکھتا ہو اور انقلاب اسلامی ایسے زمانے میں کامیاب ہوا جب مستکبرین کے پاس طاقت بھی تھی اور سائنس اور دولت پر بھی قابض تھے اور معاشروں کے فکری دائرے پر بھی قبضہ کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے کہا: وہ ہم سے بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ کو معاشروں کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں کوئی پیغام نہیں دینا چاہئے۔انھوں نے کہا: سرد جنگ کے بعد، خاص طور پر جب وہ غرور سے سرشار تھا، امریکہ نے سرد جنگ کے بعد "عالمگیریت" یا حتی فوجی جارحیت کے ذریعے قوموں پر وہ سب کـچھ ٹھونسنے کی کوشش کی جس کو معاشروں کے انتظام کے لئے اپنا نمونہ عمل سمجھتا تھا اور اسی کے ذریعے عالمی سیاست کو آگے بڑھانے کا خواہشمند تھا؛ امریکہ نے دنیا پر اپنا وہ لبرل جمہوری نظام مسلط کرنا چاہا جن کا تعین انھوں نے خود کیا تھا اور وہ نظام سیاست، معیشت اور ثقافت پر مشتمل تھا۔ جناب جلیلی نے کہا کہ ایران کے انقلاب اسلامی کی عظمت یہ تھی کہ یہ ایک عوامی انقلاب تھا اور عوام نے عزم کررکھا تھا کہ اپنے امور اور معاملات کو دین اور تدبیرالہی کی بنیاد پر چلائیں اور اسی بنا پر پیغمبروں کو طاغوتوں اور فرعونوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔انھوں نے کہا: انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی سے بھی ان کا سوال یہی تھا کہ "آپ اپنا معاشرے کا انتظام کن بنیادوں پر چلانا چاہتے ہیں؟"۔انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا امریکہ کے ساتھ تقابل فکری اور مثالی (Paradigmatic) تقابل ہے اور ان کی پوری فکرمندی یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کی فکر انبیاء علیہم السلام کے نقش قدم پر چل کر خالص اسلام کی بنیاد پر معاشرتی اور اقتصادی روابط کی بنیاد قرار دے؛ وہ ابتداء سے فکرمند تھے کہ دنیا والوں کو ایسا نمونہ پیش کیا جائے جو ایک طرف سے اقوام کے لئے کمال و ارتقاء اور پیشرفت و ترقی نیز نئی حیات کا تحفہ کیمیا ساتھ لاتا ہے اور دوسری طرف سے امریکہ کی جانب سے مسلط شدہ اصولوں کو نیست و نابود کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ قرآن کریم کی اصولی ترین مفاہیم میں سے ایک "ربّ" کا مفہوم ہے اور ربوبیت انبیاء اور مستکبرین اور طاغوتوں کے درمیان معرکے کی بنیاد تھی۔ مستکبرین اور طواغیت بھی اسی مفہوم کی بنیاد پر انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: انبیاء علیہم السلام کے درمیان جھگڑا اللہ کی خالفیت پر نہیں بلکہ ربوبیت پر تھا جھگڑا اس بات پر تھا کہ معاشروں کی تدبیر اور ان کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ مستکبرین کا سوال یہ ہوتا تھا کہ "تم کس کی ربوبیت کے قائل ہو؟" اور یہ کہ وہ انبیاء سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم دین کے عنوان سے چاہتے ہو اس میں معاشرے کی تدبیر شامل نہیں ہونی چاہئے۔سیکریٹری ہائی نیشنل سیکورٹی کونسل نے کہا: آج اسلامی انقلاب کے متعدد نسخے معرض وجود میں آچکے ہیں اور پوری دنیا بالخصوص اسلام دنیا میں اٹھنے والی تحریکوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عوامی بھی ہیں، اسلامی بھی ہیں اور امریکہ اور صہیونی ریاست سے نفرت بھی کرتی ہیں۔ڈاکٹر جلیلی نے کہا: آج خالص اسلام اور اسلام کے سیاسی فکری اصول اپنی پوری قوت سے مغرب کے ہاتھوں بنے فکری اصولوں کے کے مد مقابل قامت سیدھی کرکے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آکھڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موسی (ع) کے سامنے فرعون کی تشویش یہ تھی کہ حضرت موسی (ع) اللہ کی ربوبیت کے مبلغ تھے اور اسی اصول کی بنا پر وہ فرعون کے فکری اور حکومتی اصولوں کی نابودی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ فرعون فکر مند تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی نیا طریقہ رائج ہوجائے اور اس اور اس جیسوں کی طرف رواج پانے والا طریقے کو منسوخ کیا جائے۔ انھو ں نے کہا: آج اسلامی انقلاب اور امریکہ کے درمیان جھگڑا اس بات پر ہے کہ "کس کو ربوبی مبدء ہونا چاہئے اور کس کو دنیا کے انتظام میں کردار ادا کرنا چاہئے؟ ڈاکٹر جلیلی نے کہا: دینی جمہوریت کا نمونہ یعنی یہ کہ لوگوں نے عزم کررکھا ہے اور وہ چاہتے ہيں کہ اللہ کے احکام کو اپنی زندگی پر حاکم کردیں اور یہ نمونہ استکباری نمونے کے مدمقابل واقع ہوا ہے جس کا مطمع نظر یہ ہے کہ ایک فیصد افراد کو 99 فیصد عوام کے مقدرات پر مسلط کیا جائے اور اس کی مسلسل کوشش یہی ہے کہ وہ اس ایک فیصد کو کس طرح اقتدار میں رکھیں اور 99 فیصد کا استحصال کس طرح کریں؟جناب جلیلی نے انقلاب اسلامی کی 33 سالہ عمر کی طرف اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ سلسلہ ثاب کرتا ہے کہ فرعونیوں نے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کو جلاوطن کرکے انقلاب اسلامی کے موسی کی ولادت کا راستہ روکنا چاہا لیکن یہ قوت متولد ہوئی اور امام رحمۃ اللہ علیہ جب 15 سال کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تو یہ قوت ایک قوی نوجوان کی قامت میں اٹھی اور استکبار اپنی پوری قوت اور اپنی تمام تر فوجی، معاشی اور سیاسی صلاحیتیں بروئے کار لا کر اس قوت کے مد مقابل آکھڑا ہوا۔انھوں نے کہا: ان 33 برسوں میں یہ شجرہ طیبہ روز بروز تنومند سے تنومند تر ہوتا گیا اور آج اس کی جڑیں اتہاہ گہرائیوں میں پیوست اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہيں؛ آج ہم تمام اسلامی سرزمینوں میں میں اس درخت کی کلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔انھوں نے مغرب کے فکری نظام پر حاکم اصولوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خالص اسلام پوری قوت سے مغربی فکری اصولوں کے سامنے کھڑا ہے۔انھوں نے کہا: آج کے زمانے کے فرعون کے ساحراور جادوگر انقلاب اسلامی کی قوت کا اعتراف کررہے ہیں جبکہ وہ ہر روز اپنے پرانے حلیف کھورہے ہیں۔انھوں کہا زمانے کے فرعون کے حلیفوں کی جدائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کھوکھلی اور فرضی دھمکیاں آج کے امریکیوں کے مسائل کا واحد چارہ کار ہے۔انھوں نے ان سو دستاویزات کی طرف اشارہ کیا جن کا ذکر کچھ روز قبل رہبر انقلاب اسلامی نے کیا تھا، اور کہا: ہمارے پاس سو ایسی دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نہ صرف ایران اور علاقے میں دہشت گردوں کی پس پردہ راہنمائی کررہا ہے بلکہ وہ دہشت گردی کی اکثر کاروائیوں میں براہ راست ملوث ہے۔انھوں نے دہشت گردی میں امریکی کردار کے حوالے سے دو دستاویزات مجمع کو دکھا دیں اور کہا کہ اقوام متحدہ میں ہمارے مستقل مندوب یہ دستاویزات ایک خط کے ذریعے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو روانہ کريں گے اور سیکریٹری جنرل کا فرض ہے کہ کنونشن کے مطابق یہ خط بمع دستاویزات تمام رکن ممالک کے مندوبین کے کو بھجوادیں۔ سیکریٹری قومی سیکورٹی کونسل نے کہا کہ ایران کی بہادر قوم کے مقابلے میں امریکہ کے اقدامات امریکہ پر مسلط نظام کی فکری روش کا نتیجہ ہے۔انھوں نے امریکہ کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کہ وہائٹ ہاؤس کی روشیں اسی پرانے فارمولے کے مطابق ہیں تا ہم ان کا شیوہ نیا ہے اور یہ نیا شیوہ در حقیقت دہشت گردی کی بنیاد پر استوار کیپٹلزم (سرمایہ داری نظام) کا نتیجہ ہے۔ڈاکٹر جلیلی نے کہا: سرمایہ داری نظام نے دہشت گردی کی بنیاد پر سرخ فام امریکی باشندوں اور سیاہ فاموں کا اجتماعی قتل کرکے اور ویت نام جیسی جنگیں قوموں پر مسلط کرکے، اپنی پالیسیاں آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت اپنی پوری قوت رائے عامہ کو منحرف کرنے میں صرف کررہا ہے تا کہ امریکہ کے سیاسی نظام کو در پیش چیلنجوں کو ناکام بنا سکے لیکن موجودہ حالات میں امریکہ کو بچانے کی کوششیں ناکام نظر آرہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110