3 نومبر 2011 - 20:30

اسرائيل کي دھمکيوں کے باوجود غزہ کے محصور عوام کے لئے دوائيں لے کر امدادي قافلہ بدستور اپني منزل کي جانب رواں دواں ہے۔

ابنا: اسرائيل نے دھمکي دي ہے کہ وہ غزہ جانےوالے امدادي قافلے پر حملہ کردے گا اس کے باوجود يہ قافلہ جو کينيڈا اور آئرلينڈ کي دو جہازوں پر مشتمل ہے، اپنے مشن کو کاميابي کے ساتھ پايہ تکميل تک پہنچنے کے بارے ميں پر اميد ہے۔ اس قافلے ميں ستائيس نامہ نگار اور بحري جہاز کے عملے کے افراد شامل ہيں جو محصور فلسطينيوں کے لئے دوائيں لے کر غزہ جارہے ہيں۔کينيڈا کے جہاز ميں سوار انساني حقوق کے ايک کارکن ايہاب لطيف نے پريس ٹي وي سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائيل جو کچھ انجام دے رہاہے اس کي طرف عالمي برادري کي توجہ مبذول کرانا ہمارے اس مشن کے جملہ مقاصد ميں ہے، اگر ہم غزہ پہنچ جاتے ہيں تو بہت ہي اچھا ہوگا اور اگرغزہ نہيں پہنچ پاتے تو بھي ہم اپنے مقصد کے حصول ميں کامياب رہيں گے۔اس درميان ترکي کے حکام نے غزہ جانےوالي ٹيم سے کہا ہے کہ وہ اپنے ارکان کي تعداد کم کردے۔ کينيڈا اور آئرلينڈ کے بحري جہازوں پر کينيڈا ، آئرلينڈ ، امريکا ، آسٹريليا ، اور فلسطين کے امن کارکن سوار ہيں۔

.............

/169