ابنا: پی ٹی آئی کی رپورٹ کےمطابق جیرام رمیش نےاقوام متحدہ میں ایک اجلاس میں اس بات پرتاکیدکرتےہوئےکہ دنیاکوغیرمستحکم کرنےمیں امریکہ کاسب سےبڑا ہاتھ ہے نئي دہلی اوربیجنگ کی جانب سےامریکی ترقی کورول ماڈل بنائےجانےپرافسوس کااظہارکیا۔ انھوں نےکہاکہ عدم استحکام کی طرف لےجانےوالے ترقی پسندممالک ہیں جن کی سرگرمیوں نےعالمی سلامتی کوخطرےمیں ڈال دیاہے۔ہندوستان کی دیہی ترقی کےوزیرکی جانب سےامریکہ پردنیامیں عدم استحکام پیداکرنےکےسلسلےمیں تنقید ایک ایساموضوع ہےجو تقریباپچاس دنوں سے شروع ہونےوالی وال اسٹریٹ تحریک کےتناظرمیں عالمی توجہ کامرکزبناہواہے۔وال اسٹریٹ تحریک جوامریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کےخلاف عوامی احتجاج ہے، یورپ اور امریکہ کےدوسرےملکوں میں سرایت کرگئی ہے۔اس احتجاج کےدوسرےملکوں میں سرایت کرنے کی وجہ یہ ہےکہ ان ممالک کوامریکی اقتصادی نظام کواپنےلئےرول ماڈل بنانے یاعالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ آئي ایم ایف کی پالیسیوں کومجبوراتسلیم کرنےسے سنگین عدم استحکام کاسامناہے۔عالمی سرمایہ دارانہ نظام پراعتراض کرنےوالے ناانصافیوں ، امتیازی سلوک، سیاستدانوں کی مالی بندعنوانی اورسرمایہ داروں کی طمع کوامریکہ کےسرمایہ دارانہ نظام کےدوسرےملکوں میں سرایت کرجانے کاسبب قراردیتےہيں ۔ان کی نگاہ میں یہ نظام ،انسانی معاشرےکےحقوق کاایک بڑا حصہ پامال کرکے صرف سرمایہ داروں کےمفاد پورا کرتاہے اور اسی بناپر ہندوستان کےدیہی ترقی کےوزير نے جن پرہندوستان کےدیہی علاقوں میں آباد کروڑوں افراد کےمسائل کاجائزہ لینےکی ذمہ داری ہے، دیہاتوں کےمسائل حل نہ ہونےکی ایک وجہ ہندوستان کی ترقی میں امریکی رول ماڈل پرعمل درآمد کوسمجھتےہيں۔ماہرین کاخیال ہےکہ ترقی پذیرممالک کا سب سےبڑامسئلہ عالمی بینک اورآئی ایم ایف کی جانب سےامریکی پالیسیوں کوڈکٹیٹ کرناہے جوکسی بھی قسم کےقرضےکواپنےمطالبات پرعمل درآمد سےمشروط کرتےہيں۔ ایسا نظرآتاہےکہ ترقی پذیرممالک پرعالمی اداروں کےاحکامات کےلاحاصل ہونےکاسب سےبڑا سبب، ان کاترقی کوایک نگاہ سےدیکھناہے جبکہ دنیاکےممالک افرادی قوت ، معاشی وسائل ، قدرتی ذخائر اور ٹیکنالوجی کےلحاظ سے ایک دوسرےسےبہت مختلف ہیں۔ ...........
/169