ابنا: امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ویکٹوریا نولینڈ نے کہا ہے کہ یہ خط تہران میں واقع سوئٹزر لینڈ کے سفارت خانے کے توسط سے اسے ملا ہے۔ لیکن اس خط کے رد عمل میں یہ دعوی کیا ہے کہ یہ خط مختلف طرح کے انکار سے بھر پور ہے اور امریکہ کے نزدیک اس میں کوئي نئی بات نہیں ہے۔ امریکی وزارت انصاف نے تقریبا دو ہفتے قبل ایران پر واشنگٹن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کے قتل کا منصوبہ تیار کرنے کا الزام لگایا تھا۔ امریکی حکام نے اس سلسلے میں امریکہ میں مقیم ایرانی نژاد امریکی شہری ارباب منصور سیئر کو گرفتار کرنےکے بعد دعوی کیاکہ اس کا تعلق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ سے ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے تہران میں امریکہ کے مفادات کے محافظ سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے توسط جو خط امریکہ تک پہنچایا ہے اس میں باضابطہ طور پر اس سلسلے میں شکایت کی گئي ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا گيا ہے کہ وہ ایران سے معافی مانگے۔ امریکہ نے ایران پر جو الزام لگایا ہے اس کے آگے کئی سوالیہ نشان لگے ہوۓ ہیں۔ امریکہ کے اس دعوے میں مختلف تضادات بھی پاۓ جاتے ہیں مثلا ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ایک لاکھ ڈالر ، کہ جن کا امریکہ نے دعوی کیا ہے، ایک بینک کے ذریعے کس طرح مطلوبہ فرد تک پہنچاۓ ہیں۔ ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جو پروپیگنڈہ کررہا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ امریکہ کو ایک دشمن وجود میں لانے کی ضرورت ہے اور پھر وہ دہشتگردی کی نام نہاد کارروائیوں کو ناکام بنانے جیسے سناریو تیار کر کے راۓ عامہ کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے مقابلے میں سنجیدہ ہے ۔ اور اس بہانےکو تازہ رکھنے کے لۓ اسے گاہے بگاہے ایک نۓ سناریو کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عالمی راۓ عامہ کی توجہ ملکی مسائل سے ہٹانے کے بھی درپے ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایران کا خط موصول ہونے کے بعد جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کے پاس کہنے کے لۓ کچھ نہیں ہے اور اس نے ایران کے خلاف جو سناریو تیار کیا ہے وہ خود اس کے لۓ وبال جان بن چکا ہے۔ اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکہ نے سعودی عرب کا انتخاب کر کے نہ صرف ایران اور سعودی عرب کےتعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے بلکہ اس نے عالم اسلام کے اتحاد کی علامت حج جیسی عبادت کے موقع پر یہ سناریو تیار کر کے اسلامی اتحاد پر ضرب لگا کر اسلامی بیداری کو کمزور کرنےکی بھی کوشش کی ہے کیونکہ امریکہ کو علاقائي اور بین الاقوامی حالات کے اثرات پر شدید تشویش لاحق ہے۔جس کی وجہ سے اسے اس طرح کے پروپیگنڈے اور تشہیراتی مہم کی ضرورت ہے۔ جبکہ ایران کو اس کے سوا کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے کہ وہ خود اپنے خلاف ایسا ماحول بناۓ جس سے امریکہ کو اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنےکا موقع مل جاۓ۔ اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوجائيں۔ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اس سناریو ، اور اس کے ساتھ ساتھ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دعوے اور امریکیوں کے ہی دباؤ میں تیار کی جانے والی ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ کے ذریعے ایران کے خلاف دباؤ والا ماحول بنانے کے لۓ کوشاں ہے۔ بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ ایران میں قانونی حکومت کے خلاف کودتا سے لے کر ایران پر عراق کی جنگ مسلط کرنے ، عراق کو کیمیاوی ہتھیار فراہم کرنے ، ایران کے مسافر بردار طیارے کی سرنگونی اور وسیع پیمانے پر ایران کے خلاف لگائي جانے والی پابندیوں تک کی امریکہ کی ایران مخالف تمام سازشوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ کو ملت ایران کے ساتھ دیرینہ دشمنی ہے اور ملت ایران تیرہ آبان مطابق چار نومبر جمعے کو عالمی سامراج سے مقابلے کے دن کے طور پر مناۓ گی اور ایک بار پھر دنیا والوں کے سامنے امریکی مظالم و جرائم سے اپنی نفرت کا بھر پور انداز میں اظہار کرے گی۔.............
/169