31 اکتوبر 2011 - 20:30

الخدمت فاؤنڈیشن کے کے نائب صدر سید محمد بلال نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بیداری اسلامی کانفرنس کے فوراً بعد برہان الدین ربابی کا قتل اور سعودی سفیر کے قتل کی سازش کا الزام شاطر دشمن کی سازش ہے۔

انجینئر سید محمد بلال الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے نائب صدر ہیں۔ آپ ایک معروف سماجی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر سافٹ وئیر انجینئر بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز کے ساتھ ایک نشست میں ان کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کے انحطاط کی بڑی وجہ نااہل قیادتیں ہیں، جنہوں نے غلط پالیسیاں بنائی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ترقی نہیں ہو پا رہی۔ جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو اس میں بیداری آ رہی ہے، پورے اسلامی دنیا میں فلاحی کام زور و شور سے جاری ہیں، پہلے لوگ انفرادی طور پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے، اب لوگوں نے ادارے بنا کے تنظیمیں بنا کے ایک منظم انداز میں Transparent طریقے سے یہ کام سرانجام دے رہے ہیں۔ طلبہ یونین اور ملکی سیاستطلبہ یونین کے انتخابات 1982ء میں ختم کر دئیے گئے اور اگر جاری رہتے تو ملکی سیاست میں اچھے لوگ آتے اور ملک کی حالت دگرگوں نہ ہوتی، اداروں میں چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم ختم نہ ہوتا، طلبہ کا تعمیری رول ختم نہ ہوتا، ملکی سیاست میں جاگیرداری نظام کی جڑیں دن بدن مضبوط نہ ہوتیں۔ آج ان لوگوں کے دلوں میں نہ خوف خدا ہے نہ عوام کی محبت ہے اس لئے کرپشن اور لاپرواہی سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ طلبہ یونین پر پابندی جنرل ضیاء الحق کے دور میں لگائی گئی جو ایک غلط اقدام تھا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کا قیام کب اور کیسے؟ جماعت اسلامی ملک میں فلاحی کام مختلف ناموں سے کر رہی تھی، اس کا آغاز1948ء سے شروع ہو گیا تھا جب لوگ ہجرت کر کے آئے، باالخصوص لاہور میں لوگوں کی حالت بڑی دگر گوں تھی، وہاں جماعت نے بڑا کام کیا تو خدمت کا کام تو اس وقت سے شروع ہو گیا تھا، البتہ الخدمت فاؤنڈیشن 1996ء سے پورے ملک میں کام کر رہی ہے؛ زلزلہ زدہ علاقوں میں الخدمت نے زبردست خدمت کے کام سرانجام دئیے، لوگوں کو خوراک، خیمے اور گھر تک بنا کر دئیے، زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کی، سیلاب میں الخدمت نے ہر لحاظ سے لوگوں کی خدمت کی ہے، اربوں روپے کی امداد فراہم کی ہے۔ ہمارے مستقل پراجیکٹس میں پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے بڑا کام 32 ہسپتال ہیں، آغوش کے نام سے ایک ادارہ ہے جو نادار بچوں کی تعلیم و کفالت کا کام سرانجام دے رہا ہے، پینے کے صاف پانی کے لئے ہزاروں کی تعداد میں کنوئیں، ٹیوب ویل اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں۔ الخدمت کو عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملی ہے، لیکن حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ امداد یا معاونت حاصل نہیں ہے۔ اسلامی دنیا کے انحطاط کی وجوہاتاسلامی دنیا کے انحطاط کی بڑی وجہ نااہل قیادتیں ہیں، جنہوں نے غلط پالیسیاں بنائی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ترقی نہیں ہو پا رہی۔ جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو اس میں بیداری آ رہی ہے، پورے اسلامی دنیا میں فلاحی کام زور و شور سے جاری ہیں، پہلے لوگ انفرادی طور پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے، اب لوگوں نے ادارے بنا کے تنظیمیں بنا کے ایک منظم انداز میں Transparent طریقے سے یہ کام سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلامی دنیا میں ایران کا  کردار؟ ایران ایک Important ملک ہے، اسکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسلام کا نام حکومتی سطح پر وقار اور ہمت کے ساتھ لیا جاتا ہے، ہماری نظر میں ایران کے قائدین کی بہت اہمیت اور عزت ہے۔ ایران پورے عالم اسلام کے لئے ایک زبر دست کردار ادا کر سکتا ہے اور دو ارب مسلمانوں کے مفادات کے لئے کام کر سکتا ہے۔ ایران پر سعودی سفیر کے قتل کی سازش کا الزام!حال ہی میں امریکہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ ایران سعودی عرب کے سفیر کو پیسے دے کر قتل کروانا چاہتا تھا۔ بڑی مشکلوں سے پچھلے چند دنوں سے یہ اطلاعات ملنا شروع ہوئیں تھیں کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری ختم ہو گئی ہے، لیکن شاطر دشمن نے ایک نیا پلاٹ تیار کیا اور اس پلاٹ میں ان دونوں ممالک کو کھینچ لیا ہے، اب اگر یہ دونوں ممالک احتیاط نہیں کریں گے، تو یہ دونوں فرقہ بندی میں پڑ جائیں گے۔ یہ دونوں کے نقصان میں ہے اور یہ سارے کا سارا امریکہ کر رہا ہے۔ امریکہ نے جو بھی الزام لگائے ہیں اس کا فیصلہ نہ امریکہ کر سکتا ہے نہ سعودی عرب کر سکتا ہے۔ اس کا فیصلہ کسی غیر جانبدار فریق سے کروایا جائے، تاکہ عالم اسلام میں پیدا ہونے والے اختلاف کا سدباب کیا جا سکے۔ برہان الدین ربابی کا قتلایران میں منعقد ہونے والی بیداری اسلامی کانفرنس کے فوراً بعد مولانا برہان الدین ربابی کا قتل اور سعودی سفیر کے قتل کی سازش کا الزام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ  شاطر دشمن مسلمانون کے اتحاد کا پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات؟ پاکستان میں ویسے تو جمہوریت ہے، لیکن پاکستان کے نصف رقبے پر جنگ و جدل جاری ہے۔ جب تک ہم War on terror سے چھٹکارا حاصل نہیں کریں گے، ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ ہم ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہیں جس کا کوئی حاصل اور وصول نہیں ہے۔ اس جنگ میں اپنے لوگ مر رہے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل ایم ایم اے کی بنیادی جماعتیں جب تک مستقبل کا لائحہ عمل طے نہیں کرتیں، اس وقت تک اس کے یکجا ہونے کو خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو پائے گا۔ ایم ایم اے کی جماعتیں مل بیٹھ کے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں اور ایک سمت میں قدم آگے بڑھائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایم ایم اے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مولانا فضل الرحمٰن ہیں، جن کی وجہ سے ایم ایم یکجا ہونے سے قاصر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110