ابنا: سعودي عرب کے بادشاہ کے سوتيلے بھائي سلطان بن عبدالعزير ملک کے ولي عہد ہونے کے علاوہ ملک کے وزير دفاع بھي تھے- وہ گزشتہ سال بيماري کي وجہ سے عملي طور پر ملک کے سياسي منظر نامے سے دور ہوگئے تھے اور زيادہ تر اپنے علاج معالجے ميں مشغول رہے -
سعودي عرب ميں، ديگر ملکوں کے شاہي نظام کے برخلاف اقتدار بھائي سے بھائي کو منتقل ہوتا ہے بيٹے کو نہيں- اب تک سعودي عرب ميں ولي عہد کے انتخاب کے لئے جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ يہ ہے کہ ولي عہد کو بادشاہ نامزد کرتا ہے جسکے تحت نئے ولي عہد کو نامزد کرنے کا اختيار موجودہ بادشاہ ملک عبداللہ کے پاس ہے-موجودہ حالات ميں ملک عبداللہ کے بھائيوں کي عمريں، عبدالعزيز کے پوتوں کي حصول اقتدار کي تگ و دو اور اسي کے ساتھ ساتھ اپنے بيٹے کو اقتدار منتقل کرنے کي غرض سے ملک عبداللہ کي کوششيں ايسے اہم ترين مسائل ہيں جنکا آل سعود خاندان کو اس وقت سامنا ہے- ولي عہد کے انتخاب کے حوالے سے جو بات سب سے اہم دکھائي دے رہي ہے وہ يہ ہے کہ سعودي عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ خود بھي شديد بيمار ہيں- سعودي عرب کے آئين ميں بادشاہ کے انتخاب کے حوالے سے کوئي بات واضح طور پر لکھي ہوئي نہيں ہے- ليکن عام طور پر يہي ہوتا رہا ہے کہ بادشاہ کي موت کے بعد اسکا ولي عہد ہي اسکا جانيشن ہوتا ہے- اس لحاظ سے ملک عبداللہ کي بيماري اور انکي عمر کو ديکھتے ہوئے ولي عہد کا انتخاب انتہائي اہميت اختيار کرگيا ہے- سعودي عرب ميں شاہي حکومت کے باني عبدالعزيز کے بيٹوں کي عمروں کا زيادہ ہونا ايک اور مشکل ہے جسکا اس وقت آل سعود کو سامنا ہے- عبدالعزيز کے بيٹوں ميں ملک کے موجودہ وزير داخلہ امير نائف اور رياض کے گورنر امير سليمان ہيں جو اپني عمر کے ستربرس پورے کر رہے ہيں اور يہي دونوں حضرات جانشيني کے سب سے بڑے دعويدار بھي ہيں- سيا مبصرين کا کہنا ہے کہ بادشاہ ملک عبداللہ امير نائف کي جانب زيادہ رجحان رکھتے ہيں جو انکے حقيقي بھائي ہيں- اس صورت ميں ايک سن رسيد شخص کا ملک کي بادشاہي تک پہنچنا، جس نے اپني عمر کا بڑا حصہ طے کرليا ہے ملک کے سياسي استحکام کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے- عبدالعزيز کے پوتوں نے بھي عبدالعزيز کے بيٹوں کي جسماني صحت اور عمروں کو ديکھتے ہوئے ملک کا نيا ولي عہد بننے کے لئے شديد رقابت کا آغاز کرديا ہے- ملک عبداللہ بھي اس رقابت ميں پورے پورے شريک ہيں کيونکہ انہوں نے اپنے بيٹے کو وزير خارجہ کے مکمل اختيارات ديکر ملک کا نائب وزير خارجہ پہلے ہي مقرر کرديا ہے اور اس طرح عبدالعزيز کے پوتوں ميں اقتدارکي جنگ ميں شدت پيدا کردي ہے-
مجموعي طور پر سعودي عرب کو اس وقت ايسي اہم مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے جنکي وجہ سے بادشاہ کے لئے اپنے ولي عہد کے بارے ميں کوئي فيصلہ کرنا انتہائي دشوار ہوگيا ہے- ملک کے نئے ولي عہد کے انتخاب کے حوالے سے ملک عبداللہ کا کوئي بھي فيصلہ ملک کے مستقبل پر براہ راست اثر انداز ہوگا-...........
/169