20 اکتوبر 2011 - 20:30

امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام اور حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف جاری تحریک سے بین الاقوامی اداروں کو تشویش لاحق ہوچکی ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون کی جانب سے وال اسٹریٹ پرقبضہ کرو تحریک پر رد عمل ظاہر کرنے کےبعد اب عالمی بینک کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ میں بینکاری اور مالیاتی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں آنی چاہیں۔ رابرٹ زولیک نے کہا کہ وہائٹ ہاوس کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاني چاہیے۔ رابرٹ زولیک نے کہا کہ امریکہ اور ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کا احتجاج بینکوں کے عھدیداروں کی غلط کارکردگي کی بناپر ہے۔ قابل ذکرہے ورلڈ بینک اور آئي ایم ایف نے کئي برسوں قبل امریکہ اور یورپ کے بینکاری اور مالیاتی نظام میں بے ضابطگيوں پر خبردار کیا تھا لیکن ان ملکوں کے بینکوں کے اعلی عھدیداروں کی لالچ اور حرص نے بینکوں میں اصلاحات کرنے کاموقع نہیں دیا۔ دراصل آج کے زمانے میں بینک ایک بنیادی تجارتی ادارہ ہے جن کے بغیر عالمی سطی پر تجارت ناممکن ہے بنابرین اگر بیکنگ سسٹم میں خرابی اور فساد آجاے تو ساری معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ گذشتہ دہائي سے امریکہ کے بینکنگ نظام میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگياں اور قانون کی خلاف ورزی جاری ہے دوسرے الفاظ میں بینکوں اور مالی اداروں پر نگرانی کی ذمہ داریاں جو فڈرول ریزرو اور مرکزی بینک پر عائد ہوتی تھی اب یہ ذمہ داری بینکوں کے سربراہوں اور اعلی عھدیداروں اور مالکین کو سونپ دی گئي ہے جس کے نتیجے میں امریکہ کی معیشت جوے خانے کی معیشت میں تبدیل ہوگئي اور ملک بھر میں مالی لحاظ سے افراتفری اور بحران آتاگيا، دراصل بینکوں نے عوام کےپیسے سےبڑے خطرناک معاملات کئے جو جوئے ہی کی طرح ہوتے ہیں اور جوے میں ایک طرف ہار ضرور ہوتی ہے اور سارا نفع جوے خانہ کو جاتا ہے ۔ امریکی بینکوں کےساتھ بھی یہی ہوا اور انہوں نے زبردست خسارے کے باوجود اپنے مالکوں اور اعلی عھدیداروں کو کئي کئی ملین کی تنخواہیں اور سہولیتیں دیں جبکہ دوسری طرف سے سرکاری یانجی ملازمین اور وظیفہ یاب افراد کو اپنا سب کچھ کھونا پڑا یہاں تک کہ ان کے گھر جو حکومت نے انہیں دئےتھے وہ بھی ضبط کرلئے گئے۔ ایک عمر پونجی جمع کرنے کےاور بینکوں کے ہاتھوں لٹنے کےبعد کیا عوام بیٹھی اپنے حکمرانوں اور مالیاتی اور بینکوں کے عھدیداروں کی تعیش پسند زندکي کا تماشہ دیکھتی رہتی؟ امریکی عوام نے یہ ہرگز پسند نہیں کیا کہ ان کے پیسے سے ان کے حکمران عیش کریں اور وہ فاقہ کریں اور دوسری قوموں کا لہوبہائيں لھذا امریکی قوم بھی اٹھ کھڑی ہوئي اور اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تحریک شروع کردی۔ امریکی عوام کا کہنا ہےکہ سرمایہ دارانہ نظام سے اپنی ذات کے لئے فائدہ اٹھانے والوں کےخلاف کڑی کاروائي ہونی چاہیے اور سرمایہ دارانہ نظام کے عھدیداروں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے ورنہ عوام کا غصہ ایسے طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے جسے کوئي طاقت نہيں روک سکتی ۔...........

/169