اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نئے ڈرامے میں صہیونی ریڈیو نے امریکی الزام کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کا ملزم ٹہرایا اور کہا کہ سعودی سفیر الجبیری زہرخورانی کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اس افسانے کی سب سے اہم تردید اس بات سے ہوئی کہ سعودی سفیر زندہ ہے اور اسے کسی اسپتال میں زیر علاج بھی نہیں رکھا گیا۔دریں اثناء قاہرہ میں مقیم سعودی سفیر احمد عبدالعزیز قطان نے روزنامہ الاخبار سے کہا کہ اس خبر میں کوئی حقیقت نہيں ہے۔ امریکی اور صہیونی یہ افواہ اڑاتے ہوئے یہ بتانا بھی بھول گئے کہ "یہ حملہ کب اور کہاں اور کیسے انجام پایا اور سعودی سفیر کو کتنا نقصان پہنچا اور وہ کہاں زیر علاج رہے؟" ماہرین کا کہنا ہے کہ صہیونی - سعودی - امریکی ڈرامے کی جگ ہنسائی اور شرمناک شکست کے بعد ہی آل سعود کو شکست خورد منظر نامے سے لاتعلق ثابت کرنے کی خاطر اس خبر کی تردید پر آمادہ ہوئے ہیں۔ نئے ڈرامے میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے ایک ایرانی نژاد امریکی باشندے منصور ارباب سیار کو گرفتار کرکے اس سے اعتراف لیا ہے کہ وہ اور ایران میں مقیم ایک شخص غلام شکوری سعودی سفیر کو قتل کرنا چاہتے تھے اور سعودی اور صہیونی سفارتخانوں کو بم سے اڑانے چاہتے تھے۔ یہ الگ سوال ہے کہ امریکیوں نے سعودی اور اسرائیلی سفارتخانوں کو اس ڈرامے میں کردار کیوں دیا ہے اور ان دو کا تعلق کیا ہے؟شاید اس سے ان کا مقصد یہ ہو کہ چونکہ کوئی بھی ایران کی طرف سے سعودی سفارتخانے پر کسی حملے کا یقین نہیں کرے گا چنانچہ انھوں نے اسلام کے دشمن نمبر ایک اسرائیل کے سفارتخانے کو سعودی سفارتخانے کے ساتھ نتھی کرکے کوشش کی ہے کہ اس ڈرامے پر یقین کی سطح کو بلند کریں گو کہ یہ کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ خود امریکیوں نے بھی اس کا یقین نہیں کیا اور یہ بات بھی ثابت ہوگئي کہ اب امریکہ اس طرح کی کوئی بین الاقوامی لہر کھڑی کرنے کے قابل بھی نہيں رہا اور اب وہ نہایت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔بہرحال داستان اب امریکیوں کے گلے پڑگئی ہے کیونکہ بہت غیر ماہرانہ تھیــ بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلےمنصور ارباب سیار نامی شخص کئی برس پہلے امریکہ چلا گیا اور 10 سال قبل نیویارک میں چوری کے جرم میں گرفتار ہوا پھر ٹیکساس چلاگیا اور وہاں پرانی گاڑیوں کے کاروبار میں مصروف ہوا۔ امریکی ایجنسیوں نے اس کو زیر نگرانی رکھا اور ایران پر الزام لگانے کے لئے اس کے پاس کوئی نہ تھا چنانچہ ان کو یہی شخص نظر آیا چنانچہ اس کو منظرنامے میں کردار دیا گیا بلیک میل کرکے۔ اسرائیلی ایجنسیوں نے جعلی کاغذات تیار کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی تا کہ ظاہر کیا جاسکے کہ اس نے حال ہی میں ایران کا سفر کیا ہے اور ایران سے جرمنی کے راستے امریکہ واپس لوٹا ہے۔ امریکیوں نے اس شخص کو سپاہ پاسداران کا رکن ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جس سے سپاہ کی نسبت امریکی کینہ بھی ظاہر ہوتا ہے لیکن امریکہ کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ کوئی بھی اس شخص کو سپاہ کا اہلکار ماننے کے لئے تیار نہیں ہوا۔منصور ارباب سیار 2001 میں چوری کے الزام میں گرفتار ہوا تھا اور اب امریکہ کہتا ہے کہ اس نے سپاہ کی ہدایت پر سعودی سفیر کو قتل کرنا چاہا تھا! جو دنیا جہان میں ہزاروں کامیاب سازشیں تیار کرنے والی قوت کی انتہائی بے بسی ظاہر کرتا ہے۔ امریکی الزام کچھ یوں تھا کہ ایران نے سعودی سفیر پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ تیار کیا تھا چنانچہ سعودی سفیر الجبیری کو زہرخورانی کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن عجب یہ کہ سعودی سفیر زندہ ہیں اور انہیں کسی اسپتال میں زیر علاج بھی نہیں رکھا گیا۔ جبکہ امریکی آل سعود سے اجازت لے کر سعودی سفیر کو قتل بھی کرواسکتا تھا اور اس کےبعد ہی ایران پر الزام لگا سکتا تھا لیکن الجبیری کی خوش قسمتی کہ امریکی اندرونی اور بیرونی حالات سے اتنے پریشان ہیں کہ یہ بات ان کے ذہن میں ہی نہیں آئی ورنہ ان کی جان بھی چلی جاتی اور یہ سازش بھی ایک دو دن زیادہ چل سکتی تھی۔دریں اثناء منصور ارباب سیار کی چوری کا مقدمہ بھی سامنے آیا ہے اور یہ بھی کہ ان کی چوری اور گرفتاری کی خبر اے بی سی ٹیلی ویژن نے نشر کی تھی اور اب ماہرین کہتے ہیں کہ امریکیوں کو ایک طرف سے عربی بہار کا سامنا ہے تو دوسری طرف سے اس کو زبردست مالیاتی بحران اور لبرل سرمایہ داری نظام کے خلاف وسیع عوامی تحریک کا سامنا ہے اور پھر سعودی عرب کو علاقائی انقلابات اور اندرونی تحریک اور صہیونی ریاست کو اپنے وجود کا بحران درپیش ہے اور واشنگٹن کو انہیں بھی بچانا ہے لہذا اس نے نہایت غیر ماہرانہ انداز سے ایک ایسے 56 سالہ ایرانی نژاد امریکی کو قربانی کا بکرا بنانا پڑا اور جیسا کہ عرض ہوا امریکی سفیر کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کیونکہ دوسرا قربانی کا بکرا وہ ہوسکتے تھے۔ سیار کا مجرمانہ ریکارڈ کسی وقت بھی سیکورٹی والوں کی بلیک میلنگ کی بنیاد بن سکتا تھا چنانچہ وہ بلیک میل ہو ہی گیا۔ لیکن اس کی پوری شناخت کی بنا پر امریکی - صہیونی اور سعودی ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا اور امریکہ جس ڈرامے سے اپنی قوت اپنے عوام پر جتانا چاہتا تھا اس کی شدید کمزوری اور بے بسی کا باعث بن گیا۔نکتے بہت ہیں جس سے امریکی صہیونی سعودی ڈرامے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دنیا کی رائے عامہ کو اہمیت نہیں دی اور دنیا کے لوگوں کے شعور کو قابل توجہ نہیں گردانا جبکہ یہ دنیا آج سے دس سال قبل کی دنیا نہیں ہے جب کوئی امریکہ کے فیصلے کے سامنے اپنے آپ کے سوچنے کی اجازت بھی نہیں دیتا تھا اب لوگ سوچتے ہی نہیں بلکہ بولتے ھیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ملک اپنے ہی علاقے کے کسی شخص کو قتل کرنے کے لئے دنیا کے اس سرے تک چلا جائے جبکہ اس شخص کو اس کے ملکی عوام تک نہیں جانتے اور جو نام کا سفیر ہے اور امریکہ میں بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس نام کا کوئی سفیر بھی واشنگٹن میں مقیم ہے اور پھر وہاں جاکر ایک امریکی کو یہ کام سونپ دے جو ناقابل اعتماد بھی ہے اور امریکی ایجنسیوں کا پرانا مجرم اور ہردم ان کے زیر نگرانی ہے؟ــ انٹرپول بھی نہ مان سکیسعودی سفیر قتل سازش سے متعلق انٹرپول کا جدید انکشافبین الاقوامی پولیس (انٹرپول) کے مؤثق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واشنگٹن میں سعودی سفیر کے مبینہ قتل سازش میں (مبینہ) ملوث دوسرا ملزم مجاہدین خلق تنظیم سے تعلق رکھتا ہے اور یہ تنظیم ایران کے اسلامی انقلاب کی مخالف تنظیم ہے اور اس تنظیم کو امریکہ کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ بین الاقوامی پولیس (انٹرپول) کے مؤثق ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش میں ملوث دوسرا ملزم علی، غلام اور غلام حسین شکوری کے ناموں سے جانا جاتا ہے وہ مجاہدین (منافقین) خلق تنظیم (MKO) سے تعلق رکھتا ہے اور اس شخص نے متعدد پاسپورٹوں اور جعلی ناموں کے ساتھ مختلف ممالک کا سفر کیا ہے اسے30/11/ 2006 ء میں واشنگٹن سے K10295631 نمبر کا پاسپورٹ فراہم کیا گیا اور اسے آخری مرتبہ عراق میں منافقین کے ہیڈکوارٹر میں دیکھا گیا ہے جو امریکی کنٹرول میں ہے۔ ان اطلاعات سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی سفیر کے قتل کی یہ جعلی سازش خود امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے تیار کی تھی جو بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
ــ مبینہ قتل سازش کیس کے مبینہ ملزم کے بارے میں رائٹرز کے انکشافات رائٹرز نے ارباب سیار کے بارے میں اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ شخص کسی طرح بھی خفیہ اہلکاروں سے مشابہت نہیں رکھتا۔رائٹرز نے ٹیکساس میں ان لوگوں سے مکالمہ کیا ہے جن کا کسی طرح منصور ارباب سیار سے تعلق رہا ہے اور اس کے ساتھ رہے ہیں۔رائٹرز لکھتا ہے: ارباب سیاسی اپنی ذاتی زندگی میں بے نظم انسان ہے اسی لئے ایسا شخص اس طرح کی کسی اہم کاروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا اہل نہیں ہے۔ارباب سیار کے ایک دوست ماکیل ہامائوئی ())) نے کہا: وہ ایک نامنظم، غائب دماغ، خوش و خرم، دین اور سیاست سے لاتعلق، تھا۔سیار کی سابقہ بیوی مارتھا گویریرو (MARTHA GUERRERO) نے کہا: میں اپنی پوری زندگی میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ کسی ایسی کاروائی کا اہل ہوسکتا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اس کی بے گناہی ثابت ہوجائے گی۔ گویریرو نے کہا کہ ٹیکساس کے اس عمر رسیدہ آدمی اور پرانی گاڑیوں کا کاروباری ایران کے نہایت ماہر ایلیٹ فورس کے ساتھ تعاون کرے گا اور ان کے لئے کام کرے گا اس کا میں یقین نہیں کرسکتی۔سیار کے ایک دوست “ماکیل هامائویی” وہ ایک بور کردینے والا (boring) آدمی تھا، و فرض شناس نہیں تھا اور بہت زیادہ باتونی تھا اور میرے خیال میں خفیہ اہلکار ایسے نہیں ہوسکتے۔ان کے ایک دوست "سیاح" نے کہا: سیار ایک لڑکا نہیں ہے 56 سالہ آدمی ہے، 30 برسوں سے امریکہ میں رہتا ہے اور اس کے بچے ہيں اور اس طرح کے کام کے لئے وہ مناسب ہو ہی نہیں سکتا۔ سیاح نے کہا: میں ایک دوسرا سوال پوچھنا چاہوں گا اور وہ یہ ایران کو سعودی سفیر پر حملہ کرکے کیا ملے گا؟ اس کو تو نقصان زیادہ پہنچے گا اور فائدہ کچھ نہیں ہوگا۔ سیاح نے مزید کہا: اگر ایران کسی سعودی یا امریکی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس کو امریکہ میں آنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ امریکی اور سعودی عراق، افغانستان اور بحرین میں موجود ہیں اور وہ وہاں آسان نشانہ ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ہاتھ دھو کر ایران کے پیچھے پڑا ہے اور اس کو تنہا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ سیار نے کئی دفعہ میکسیکو کا دورہ کیا ہے تا کہ وہاں سعودی سفیر پر حملہ کرنے کے لئے بعض افراد کو کرائے پر حاصل کرسکے۔رائٹرز لکھتا ہے: خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار عام طور پر بہت منظم ہوتے ہیں جبکہ ارباب سیار بہت زیادہ پیتا تھا اور شراب نوشی میں زیادہ روی کیا کرتا تھا اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے کئی بار پولیس اسٹیشنز کے چکر لگا چکا تھا حالانکہ خفیہ ایجنسیوں کے لوگ پولیس سے بچ کر رہتے ہيں اور بے احتیاطی نہیں کرتے۔ سیار کے ایک دوست نے کہا: کہ امریکہ جھوٹ بول رہا ہے؛ کیا ایران کی ساڑھے سات کروڑ کی آبادی میں ایک آدمی نہیں مل رہا تھا کہ ایران کو ارباب سیار کی ضرورت پڑی تھی؟رائٹرز نے لکھا: خفیہ اہلکاروں کے گھر بھی خفیہ اور پر امن ہوتے ہيں اور ایسے گھر فاش نہیں ہونے دیئے جاتے لیکن ارباب سیار نے کئی سال قبل ایک مکان خریدا تھا جس کی قسطیں وہ ادا نہ کرسکا اور بینک نے اس پر قبضہ کرلیا! یہ کیسے ممکن ہے؟رائٹرز نے آخر میں لکھا کہ اس کیس میں خامیاں بے شمار ہیں اور ارباب سیار کا اپنا ماضی اس کیس کی اہم ترین خامی ہے۔
ــ صہیونی تجزیہ نگار بھی نہ مان سکاصہیونی روزنامے کے تزویری مسائل کے تجزیہ نگار "يوسی ميلمن" (Yossi Melman) اسرائیل کے پالیسی سازوں کا قریبی بھی ہے اور اسرائیل اور عالمی سطح پر سیکورٹی اور جاسوسی کے حوالے سے بھی بہت ماہر سمجھا جاتا ہے جس نے اپنے حالیہ مضمون میں سعودی سفیر اور امریکہ اور ارجنٹائن