15 اکتوبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے واشنگٹن میں دہشتگردی کی سازش کے الزامات کا جواب دیا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں امریکہ کے اٹارنی جنرل کے اس الزام کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہ واشنگٹن میں سعودی سفیر کو قتل کرنے کےمنصوبے میں ایک ایرانی شہری کو گرفتار کیا گيا ہے کہا گيا ہے کہ جس ایرانی شہری کو گرفتار کیا گيا ہے وہ کم از کم سولہ برسوں سے امریکہ میں رہ رہا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے کسی ادارے سے اس کا کوئي رابط نہیں ہے۔ اس بیان میں آیا ہےکہ امریکہ نے اپنے الزام کی حمایت میں کسی طرح کا ثبوت پیش نہیں کیا ہے اور عالمی سطح پر تجربہ کار سیاسی شخصیتوں اور ماہرین نے یہانتک کہ خود امریکہ میں امریکی حکومت کے اس الزام کو سازش قرار دیکر مسترد کردیا گيا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں ملت ایران کے خلاف گذشتہ تین دھائيوں میں انجام دئے گئے دہشتگردانہ واقعات کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا گيا ہے کہ ایران دہشتگردی کا بڑا شکار ہے اور امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف بعض دہشتگرد گروہوں کی حمایت ایک آشکار امر تھا اور آج بھی ہے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے ثابت اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے عالم اسلام، عرب ملکوں بالخصوص ہمسایہ ملکوں جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے ایران کی اسٹراٹیجی امن و صلح، برادری، ترقی و استحکام ، اجتماعی امن و سلامتی اور خلیج فارس اور مشرق وسطی کے حساس علاقے کے شہریوں کے لئے سعادت کے حصول پر استوار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے اس بیان میں امریکہ کے الزام کو سختی سے مسترد کرتےہوے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے اسلامی بیداری کے نتیجے میں اپنی تمام تر پالیسیوں کی ناکامیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے تمام غیر قانونی منصوبوں کی شکست اور اپنے بڑھتی ہوئي داخلی مشکلات کی بنا پر یہ سیاسی اور تشہیراتی ڈرامہ رچا ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد تشہیراتی ڈراموں کے نتیجے میں امن عالم کو مختل کرنے کی ذمہ داری امریکی حکومت پرہی عائد ہوگي۔.......... /169