ابنا:ہلیری کلنٹن بھی گروپ سے مذاکرات کے لئے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دے چکی ہیں لہذادہشت گردتنظیم قراردینے سے امریکاکے حقانی نیٹ سے مذاکرات کامعاملہ کھٹائی میں پڑجائے گا،واشنگٹن جانتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا افغان سیاست میں کلیدی کردار ہے اور حملے کے دس سال سے زائد عرصے کے بعد امریکی جو افغانستان چھوڑ کر جائیں گے اس کی صورت گری میں کردار ادا کریں گے۔ اس کے باوجود بھی گروپ کے اہم ارکان کو نشانہ بنانے کی غرض سے امریکی ڈرون حملے جاری ہیں اور یہ خبر بھی ہے کہ جمعرات کو ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کا ایک سینئر کمانڈر مارا گیا ہے۔ 11 اکتوبر کو اس سوال پر کہ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ حقانی نیٹ ورک افغان حکومت سے مفاہمت کرے گا تو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے رائٹرز کو بتایا کہ ”اس وقت ہمارا خیال ہے یا ہم سمجھتے ہیں کہ حقانی اور ان جیسے دوسرے گروپ ہمارے دشمن ہیں اور افغانستان میں امریکا، افغانستان اور اتحادیوں کے لئے خطرناک ہیں لیکن مستقبل میں کسی راستے کی تلاش کی غرض سے اپنے دروازے بند نہیں کئے“۔ہلیری کلنٹن مذاکرات کی غیررسمی پیشکش اس وقت کر رہی ہیں جب امریکی وزارت خارجہ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے گریز کرنے کی بناء پر دباؤ کا شکار ہے۔ اوباما انتظامیہ کا بدلتا ہوا موٴقف اس بات کا مظہر ہے کہ امریکی مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتے کیونکہ دہشت گرد ہونے کا لیبل لگنے سے حقانیوں کے ساتھ مذاکرات ناممکن ہو جائیں گے کیونکہ یہ امریکی کریمنل لا کی خلاف ورزی ہو گی۔ امریکی افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ یہ خطرناک گروپ آئی ایس آئی کا دست و بازو ہے اور افغانستان میں پر تشدد واقعات میں ملوث ہے“۔ تاہم وائٹ ہاؤس مولن کے دعویٰ سے پہلے ہی اظہار تعلقی کر چکا تھا۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور طالبان کی قیادت میں افغانستان میں جاری بغاوت کے اہم کردار سراج الدین حقانی نے 3 اکتوبر 2011ء کو برطانوی ریڈیو کو دیئے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی حکومت میں شامل ہونے کے لئے امریکا نے ان سے رابطہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ”امریکیوں کی آمد کے پہلے دن سے آج تک نہ صرف پاکستانی بلکہ دیگر اسلامی اور غیر اسلامی ممالک جن میں امریکا بھی شامل ہے نے ہم سے رابطہ کیا جواب بھی جاری ہے۔ وہ ہم سے اسلامی امارات کی افواج (طالبان) سے علیحدہ ہونے کے لئے کہہ رہے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ ”غیر ملکیوں نے افغان حکومت میں اہم کردار کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا وعدہ کیا ہے“۔سراج الدین حقانی کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل نے 5 اکتوبر کو رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ سینئر امریکی عہدیداروں نے موسم گرما میں خفیہ طور پر حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں سے ملاقات کی تاکہ جنگ کے خاتمے پر ان کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکے۔ رپورٹ میں سینئر امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ حقانی نیٹ ورک کے نمائندگان اور امریکی عہدیداروں کے درمیان موسم گرما میں کم از کم ایک ملاقات ہوئی جس کا اہتمام آئی ایس آئی نے کیا تھا۔امریکی فوجی قیادت افغانستان میں موجود عالمی فورسز پر بیشتر حملوں کا الزام حقانی نیٹ ورک پر عائد کرتی رہی ہے جبکہ امریکی محکمہ خزانہ سراج الدین حقانی اور گروپ کے دیگر لوگوں پر پابندیاں لگاتے رہے ہیں اور 13 ستمبر کو کابل حملے کے بعد 29 ستمبر کو بھی پابندیاں لگائی گئیں۔ تاہم حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لئے وائٹ ہاؤس پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے اقدامات ناکام ہو گئے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گروپ قرار دینے کے لئے امریکی قانون سازوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر ہلیری کلنٹن نے 28 ستمبر کو کہا تھا کہ اس حوالے سے فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ہلیری کلنٹن نے واشنگٹن میں رپورٹرز کو کہا کہ ”ہم آخری مرحلے میں ہیں، حقانی نیٹ ورک کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لئے حکومتی سطح پر فیصلے کے لئے باضابطہ جائزہ لینا ہے“۔ تاہم 11 اکتوبر کے بیان جس میں امریکا نے افغانستان میں امن کے لئے عسکریت پسند گروپ سے معاہدے کے لئے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا ہے ہلیری نے اشارہ دے دیا ہے کہ مستقبل قریب میں حقانی نیٹ ورک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں ہو گا کیونکہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ آئندہ سال انخلا سے قبل افغانستان کو مستحکم کرنے کے امریکی منصوبے کو ناکام بنانے والے عسکریت پسندگروپوں کا اس گروپ کی پوزیشن سب سے مستحکم ہے۔در حقیقت افغان طالبان کو امریکی محکمہ خزانہ نے 23 ستمبر 2001ء کو جاری ہونے والے ایگریکٹو آرڈر نمبر 13224 کے تحت غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہوا ہے۔تاہم حقانی نیٹ ورک کی ایک باغی گروپ کی موجودہ حیثیت وائٹ ہاؤس کو امریکی کریمنل قانون کو توڑے بغیر اس سے مذاکرات کی اجازت دیتا ہے تا وقت کہ اس کو افغان طالبان کی طرح دہشت گرد تنظیم قرار نہ دے دیا جائے۔ ...........
/110