9 اکتوبر 2011 - 20:30

بین الاقوامی تنظیم برائے فضائي حمل و نقل ایاٹاIATA نے امریکی پالیسیوں کی پیروی کرتےہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکاری ایئرلائن ایران ایئر کا بائيکاٹ کردیا ہے۔

ابنا: ایاٹا کے رابطہ عامہ کے ڈائرکٹر اینتھونی کانسیل نےاس اقدام کے بارے میں ایک خبررساں ادارے سے گفتگو میں کہاکہ ایاٹا کوچاہیے تھا کہ وہ پانچ اکتوبر سے ایران ایر کو تمام سروسز دینا بند کردیتی۔ ایران ایر ایک معروف ایر لائن اور ایا ٹا کی رکن بھی ہے اور اس کےخلاف ایاٹا کا بائيکاٹ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہےکہ امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی ابتدا ہی سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزي کرتے ہوے ایران کے خلاف پابندیاں لگادی تھیں جن میں مسافر طیاروں کے کل پرزے فروخت کرنا بھی شامل تھا۔ امریکہ اب اس بین الاقوامی تنطیم پر دباو ڈال کر ایران ایر کی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکی حکام نے بارہا یہ دعوے کئےہیں کہ انہیں ایرانی عوام سے ہمدردی ہے اور وہ ایران کی قدیمی تہذیب و تمدن کا احترام کرتےہیں لیکن ایران حکومت کے ساتھ ان کے اختلافات ہیں۔ امریکیوں کی یہ پالیسی بش جونئیر کے زمانے میں باضابطہ طورپر تیار کی گئی اور اس زمانے سے ایران کے خلاف مخاصمانہ پالیسیوں کے اپنانے کا بہانہ بنی ۔ اس زمانے میں بش جونئير کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈالیزارائيس تھیں۔ اسی فریبکارانہ پالیسی کو اپناتے ہوئے موجودہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی بارہا یہ دعوے کئےہیں کہ وہ ایرانی عوام سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ایرانی عوام کا معاملہ حکومت سے جدا ہے، لیکن ایرانی عوام کی دوستی اور اس سے ہمدردی کے ان ہی دعویداروں نے ایران کے لئے مسافر طیاروں کے کل پرزوں کی فروخت پرپابندی لگادی اورایران کے عوام کی جان کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس کی پوری پوری ذمہ داری امریکہ کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہےکہ مسافر طیاروں کو ایندھن نہ دنیا یا ان کے کال پرزوں کی فروخت پرپابندی لگانا غیر قانونی اور عالمی معاہدوں کے منافی ہے اسی طرح ایاٹاکی جانب سے ایران ایر کا بائيکاٹ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے علاوہ اور کوئي معنی نہیں رکھتا۔ یاد رہے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر شدید پابندیاں عائد کرنا چاہتاہے لیکن نہیں چاہتا کہ ایرانی عوام کواس سے نقصان پہنچے۔ اب یہ سوال پیداہوتاہےکہ کیا مسافربردار ایرلائن پرپابندیاں لگانا ممنوعہ ہتھیاروں کی طرح ہے کہ امریکہ جن کا مقابلہ کرنے کا دعوی کرتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ملت ایران کے مقابل سامراجی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی ناکامیوں کے بعد وہ اب اس نتیجے تک پہنچےہیں کہ ایران کے خلاف نرم اور نفسیاتی جنگ چھیڑ کر اندر سے ایران حکومت کے خلاف سازشیں رچیں تاکہ ایران حکومت کے اندر شگاف پیدا ہوجائے بنابریں اسی غیر انسانی سازش کے تحت ایران پر پابندیاں لگائي جارہی ہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ پروپگينڈا بھی کیا جارہا ہے کہ اس پابندیوں کا ہدف ایرانی عوام نہیں بلکہ حکومت ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اقدامات سے براہ راست ایرانی عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ امریکی حکام ایسے عالم میں خودکوایرانی عوام کا ہمدرد ظاہر کررہے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف طرح طرح کی پابندیاں عائد کررکھی ہیں جن میں مسافر طیاروں کے کل پرزوں سمیت پٹرول کو بھی شامل کردیا گيا ہے اور پرامن ایٹمی پروگرام بند کرنے کےلئے ڈیڈ لائن دی گئي ہے، اس کے علاوہ ایران میں بہت سےفتنوں اور دہشتگردی کے واقعات میں امریکہ ہی کا ہاتھ دکھائي دیتا ہے۔ .....

/169