اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالرحمن الوابلی نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: پوری دنیا کے اہل تشیع کی مذمت میں شیخ الحذیفی کا معاندانہ موقف ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے قوانین کے مطابق انسانیت کے خلاف جرم (Crime Against Humanity) سمجھا جاتا ہے، اور جو شخص دوسروں کو انسانوں کے خلاف مشتعل کرتا ہے وہ انسانیت کے خلاف براہ راست جرم کے مرتکب ہونے والے شخص کی مانند مجرم ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق قابل گرفت اور اس کا عمل مذموم ہے۔ انھوں نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص پوری امت کو ایک چھوٹے سے گروہ کے جماعتی عمل کی بنا پر، پوری امت کی مذمت کرے، ایسا امر جو ممکن ہے کہ مختلف ادیان اور فرقوں میں خاص قسم کے افراد سے سرزد ہوجائے اور یہ عمل کسی خاص گروہ یا جماعت کے لئے مختص نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ الحذیفی نے انسانیت کے خلاف جرم کے ارتکاب سے قبل جزیرة العرب کے عوام کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اس نے ملک کے عوام کو خانہ جنگی پر اکسایا ہے؛ جبکہ جزیرة العرب میں مسلح انتہاپسندوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو پورے عالم اسلام کے امن و سلامتی کو خطرات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ الوابلی نے کہا: حرم نبوی (ص) پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے سے لے کر قیام قیامت تک مسلمانوں کے تمام مکاتب اور فرقوں سے تعلق رکھتا ہے جبکہ الحذیفی نے اپنے اس موقف کے ذریعے اس حرم میں شیعہ مسلمانوں کی حاضری کے جواز کا انکار کیا ہے اور یہ موقف تاریخ میں پہلی بار سامنے آیا ہے اور نہایت غیرذمہ دارانہ موقف ہے؛ کیونکہ جو شخص حرمین شریفین میں نماز پڑھتا ہے اس کو تمام اسلامی مکاتب کا احترام کرنا چاہئے اور بصورت دیگر اس کو اس مقدس مقام سے چلے جانا چاہئے تا کہ شائستہ اور لائق و اہل افراد اس مقدس منبر پر بیٹھیں۔الوابلی نے کہا: حذیفی کا موقف جزیرة العرب کے عوام اور ایک ہی سرزمین کے عوام کے درمیان فرقہ وارانہ اور مذہبی فتنہ انگیزی ہے؛ اور وہ بھی مسجد النبی (ص) میں؛ لہذا الحذیفی کو فوراً معزول کرنا چاہئے؛ اس سے قبل بھی مسجدالحرام کے ایک خطیب نے اہل تشیع کے علماء کی تکفیر کی اور اس کو منصب خطابت سے ہٹا دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110