تمہیداللہ کی نام سے جس نے وجود بخشا؛ جو جہاں آفرین ہےاللہ کا شکر جس نے ہمیں امت مرحومہ میں قرار دیا اور علی و آل علی علیہم السلام کی ولایت پر استوار کیا؛ بہترین ثناء اور تحیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ (ص) کے خاندان پاک بالخصوص پیشوائے ہشتم اور معصوم دہم حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام پر اور خدا کا لعن اور اللہ کی رحمت سے محرومی ہو رسول اللہ اور آل رسول اللہ (ص) کے دشمنوں پر۔ آپ ان سطور میں علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی حیات طیبہ کے بعض گوشوں کا مطالعہ کررہے ہیں؛ وہی جو عالم خلقت کے آٹھویں امام ہیں اور بندگان خدا پر اللہ کی آٹھویں حجت ہیں۔حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی حدیث لوح میں حضرت حق تعالی کا ارشاد ہے: جو بھی آٹھویں امام اور پیشوا کو جھٹلائے اس شخص کی مانند ہے جس نے میرے سارے اولیاء کو جھٹلایا ہو؛ حضرت موسی کاظم (ع) کے بعد آپ (ع) کے فرزند امام رضا علیہ السلام میرے دین کا حافظ و نگہبان ہوگا؛ آپ (ع) کا قاتل ایک نہایت پلید اور مغرور شخص ہوگا۔رسول اللہ (ص) نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں فرمایا: ان کا نام خداوند متعال نے "علی" رکھا ہے اور تمام خلائق میں انہیں راضی اور رضا کا لقب عطا فرمایا؛ انہیں شیعیان اہل بیت (ع) کا شفیع قرار دیا جو روز قیامت ان کی شفاعت سے نجات پائیں گے اور فلاح یافتہ ہوجائیں گے۔اور یہ مجموعہ امام ہشتم کی حیات با برکات کے بحر بے ساحل میں سے ایک قطرہ ہے جو دسیوں کتب سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ مضمون عقیدتی بھی ہے اور سیاسی، تہذیبی و تعلیمی، معاشی، سماجی اور اخلاقی و تربیتی بھی ہے۔یہ مختصر پیارے نوجوانوں کے لئے جو حقیقت ڈھونڈنے کے لئے تمامتر وسائل بروئے کار لاتے ہیں تا کہ صحیح کو غلط سے اور خالص کو ناخالص سے تشخیص دیں اور بہترین کا انتخاب کریں۔ اور مؤلف و مترجم کے لئے اس روز کا ذخیرہ ہو جب ((لايَنْفَعُ مالٌ وَ لابَنُون إِلاّ مَنْ اءَتَى اللّهَ بِقَلْبٍ سَليم لي وَ لِوالِدَيّناَ وَ لِمَنْ لَهُ عَلَيّناَ حَقّ)) (انشاء اللّه تعالى )امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے مختصر حالات زندگیامام رضا علیہ السلام، اپنے جد امجد رئیس مذہب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے ایک سال بعد جمعرات یا جمعہ کے روز 11 ذی الحجہ 148 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ (1)نام : علىّ، صلوات اللّہ و سلامہ عليہ (2)كنيت : ابوالحسن الثانى ، ابوعلىّ و... ۔ألقاب : رضا، صابر، زكىّ، وفىّ، ولىّ، رضىّ، ضامن ، غريب ، نورالہدى ، سراج اللّہ ، غيظ المحدّثين ، غياث المستغيثين و... ۔والد ماجد: امام موسى كاظم ، باب الحوائج إلى اللّہ عليہ السلام۔والدہ ماجدہ: شقراء، معروف بہ خيزران ، امّ البنين، اور بعض نے بتایا ہے کہ آپ (ع) کی والدہ کا نام گرامی "نجمہ" تھا۔انگشتری کا نقش: امام علیہ السلام کی تین انگشتریاں تھیں جن کے نقش علی الترتیب یوں تھے:حَسْبىَ اللّہما شاءَ اللّهُ وَ لا قُوَّةَ إ لاّ بِاللّهِوَلييّ اللّہدربان : آپ (ع) کے دربان دو تھے: محمّد بن فرات اور محمّد بن راشدمدّت امامت : 25 رجب 183 ہجری کو والد کی شہادت کے بعد امامت کے منصب پر فائز ہوئے اور 203 یا بقولی 206 ہجری (یوم شہادت) تک مسلمین کے امام رہے۔ سفر خراسان: عباسی بادشاہ مآمون بن ہارون نے آپ (ص) کو مدینہ سے خراسان بلوایا اور یہ سفر ایسا تھا جس میں ـ آپ (ع) کے بقول ـ واپسی نہیں تھی۔سِنِّ مبارک: 49 سے 57 برس؛ مؤرخین میں اس حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ سفر خراسان کے اسباب: جب ہارون کی ہلاکت ہوئی تو بغداد اور نواح پر اس کے بیٹے امین کا قبضہ تھا اور خراسان کے تمام علاقوں پر مأمون کی حکمرانی تھی۔ کچھ عرصہ بعد دو بھائیوں کی لڑائی میں امین مارا گیا اور مأمون فارغ البال ہوا تو مدعی ہوا کہ گویا خاندان علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے محبین میں سے ہے۔ چنانچہ سنہ 200 میں اس نے مدینہ پر حاکم اپنے والے کو لکھا کہ امام رضا علیہ السلام کو اہواز کے راستے سے خراسان روانہ کریں لیکن خبردار انہیں قم کے راستے سے نہ لایا جائے۔ جب امام (ع) "شہر مَرو" پہنچے تو مأمون نے آپ (ع) کو خلافت کے عہدے کی پیشکش کی لیکن آپ (ع) عباسی بادشاہوں کی ریشہ دوانیوں سے واقفیت کی بنا پر خلافت کی پیشکش ٹھکرادی۔ مأمون نے دو مہینوں تک اصرار کیا اور آخر کار قتل کی دھمکی پر اتر آیا؛ چنانچہ امام علیہ السلام نے کچھ شرطوں پر خلافت کا عہدہ ٹھکرا کر ولیعہدی کا عہدہ قبول کرنے کا عندیہ دیا اور روز جمعرات 5 رمضان المبارک سنہ 201 ہجری کو ولیعہد کے عنوان سے لوگوں کی بیعت قبول فرمائی اور شرط یہ رکھی کہ فیصلوں، تقرریوں اور تنزلیوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔ مأمون اس طرح امام علیہ السلام کی عظمت و نفوذ کو کم کرنا چاہتا تھا اور ثابت کرنا چاہتا تھا کہ امام رضا علیہ السلام اب ان کے قابو میں ہیں لیکن ولیعہدی کے دور میں ثابت ہوا کہ امام پھر بھی امام ہیں جن کے نفوذ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے چنانچہ امام غریب الوطن اور مظلوم امام کو شہید کرنے کا فیصلہ کیا۔ مأمون نے جمعہ یا سوموار آخر صفر المظفر سنہ 203 یا 206 (4) کو زہر ملے انگور کے ذریعے امام (ع) کو مسموم کیا اور امام (ع) مشہد کے قریب سناباد نامی محلے میں جام شہادت نوش فرما گئے۔ (3) امام (ع) کو حمید بن قحطبہ کے گھر میں ہارون کی قبر کے برابر میں سپرد خاک کردیا گیا۔ آپ (ع) کے ہم عصر عباسی بادشاہ: ہارون، امیں، ہارون کا چچا ابراہیم، ہارون کا دوسرا بیٹا محمد، ہارون کا تیسرا بیٹا عبداللہ مآمون۔ اولاد: امام علیہ السلام کے ایک ہی بیٹے "ابوجعفر، محمد تقی جواد علیہ السلام" ہیں۔نماز مخصوص: آپ (ع) کی مخصوص نماز چھ رکعتوں پر مشتمل ہے؛ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 10 مرتبہ ہل اتی علی الانسان حین من الدہر لم یکن شیئاً مذکورہ (4) اور آخری سلام کے بعد تسبیحات حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا اور اس کے بعد شرعی حاجتیں طلب کرنا جو ان شاء اللہ برآوردہ ہونگے۔ نور ہدایت کا طلوع مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہی اور روایت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ:حضرت امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ایک نہایت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں نہایت پاکیزہ اور با فضیلیت تھیں عقل و دین کے لحاظ سے اپنے زمانے میں مشہور تھیں، فرائض کی پابند اور مستحبات پر عمل پیرا تھیں اور ہر وقت ذکر و تسبیح میں مصروف رہا کرتی تھیں۔آپ (س) خود فرماتی ہیں کہ جب حجت الہی حضرت رضا (ع) میرے رحم میں منتقل ہوئے تو مجھے ہر وقت احساس رہتا تھا کہ ایک غیر معمولی شخصیت اور خدا کے خاص بندے میرے شکم میں قرار پائے ہیں۔ میرے وجود میں معنویت اور عشق الہی کا جذبہ روز بروز بڑھتا گیا اور مجھے کبھی بھی بھاری پن یا تکلیف اور دشواری کا احساس نہیں ہوتا تھا۔میرے فرزند تنہائیوں میں میرے مونس و انیس تھے۔ جب میں سونے لگتی تو پیوستہ تسبیح و حمد و تہلیل اپنے جسم کے اندر سے سن لیا کرتی تھی اور میں سمجھ جاتی تھی کہ یہ میرے فرزند ہیں جو اللہ کے ذکر و تسبیح میں مصروف ہیں۔ اور جب یہ نور الہی طلوع ہوا اور امام (ع) اس عالَم میں وارد ہوئے تو اپنی دونوں ہاتھوں کے بل بیٹھ گئے اور سر آسمان کی جانب اٹھایا اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دینے لگے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں راز و نیاز اور مناجات میں مصروف ہوئے اور شہادتین زبان مبارک پر جاری کیں۔ جب میرے شریک حیات حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام داخل ہوئے تو آپ (ع) نے مجھے مبارکباد دی اور میں نے بیٹا آپ (ع) کے حوالے کیا اور امام (ع) نے امام رضا علیہ السلام کے دائیں کان میں اذان کہی اور بائیں کان میں اقامہ پڑھی اور پھر آب فرات میں سے تھوڑا سا پانی امام علیہ السلام کو پلایا۔ (5)تمام زبانوں پر عبورمرحوم شيخ صدوق، شيخ حرّعاملى و دیگر اکابرین بحوالہ ابوصلت ہروى نقل كرتے ہیں: حضرت دنیا کی تمام زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ہر علاقے کے لوگوں سے ان ہی کی زبان میں مکالمہ فرمایا کرتے تھے۔ لہجے اور کلمات و الفاظ کی ادائیگی میں اہل زبان سے زیادہ فصیح تھے اور یہ بات لوگوں کے لئے حیرت کا باعث تھی۔ابوصلت کہتے ہیں: ایک روز میں نے امام علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آپ اتنی زبانوں پر کیونکر عبور رکھتے ہیں اور اتنی آسانی سے مکالمہ کرتے ہیں یہ سب آپ نے کیسے سیکھا؟امام (ع) نے فرمایا: اے ابا صلت! میں حجت اللہ اور خلیفةاللہ ہوں اور اللہ جس کو اپنے بندوں پر اپنا خلیفہ و جانشین و راہنما قرار دیتا ہے اسے تمام زبانوں اور اصطلاحات سے آگہی بخشتا ہے تاکہ وہ عام لوگوں کی زبان سمجھے اور ان کے ساتھ ان ہی کی زبان میں بات چیت کرے اور بندگان خدا بھی اپنے امام کے ساتھ اپنی زبان میں بات کرسکیں۔ اس کے بعد امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ نے امیرالمؤمنین (ع) کا یہ قول نہیں سنا ہے کہ فرمایا: ہم اہل بیت عصمت و طہارت پر فصل الخطاب عطا ہوا ہے اور پھر فرمایا:فصل الخطاب سے مراد یہ ہے کہ ہمیں تمام لوگوں کی زبانوں اور اصطلاحات سے آگہی بلکہ نہ صرف انسانوں کی زبانوں سے آگہی بلکہ تمام مخلوقات کی زبانوں سے آشنائی ہوتی ہے چاہے وہ کسی بھی نسل سے ہوں اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں بھی ہوں۔ (6)امام سمندر علم امام اس کے قطرےمرحوم علاّمہ مجلسى و اور بعض دیگر اکابرین نے کہا ہے:امام رضا (ع) کے صحابی "علىّ بن ابى حمزہ بطائنى" حکایت کرتے ہیں:ایک روز ہم امام علیہ السلام کی خدمت میں تھے کہ تیس حبشی غلام آپ (ع) کی مجلس میں وارد ہوئے۔ ایک حبشی نے اپنی مقامی زبان میں امام علیہ السلام کے ساتھ مکالمہ کیا اور امام (ع) بھی جواب دیتے رہے اور بات چیت کرتے رہے اس کے بعد امام (ع) نے کچھ درہم اس حبشی شخص کو دیئے اور اس کو کچھ ہدایات دیں اور اس کے بعد وہ حبشی افراد اٹھ کر چلے گئے۔ میں نے حیرت کی ساتھ عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! گویا آپ نے اس حبشى کے ساتھ اس کی مقامی زبان میں بات چیت کی، آپ نے انہیں کس چیز کا حکم دیا؟امام (ع) نے فرمایا: اس غلام کو میں نے دوسروں سے زیادہ عقلمند پایا چنانچہ میں نے اسی کو منتخب کیا اور اس کو ہدایات دیں کہ اپنے دوستوں اور ہمراہیوں کے امور اپنے ہاتھ میں لے اور ان کے مسائل پر غور کیا کرے اور ہر ماہ ان میں سے ہر ایک کو 30 درہم بھی ادا کیا کرے۔ اور اس حبشی نے بھی میری ہدایات قبول کرلیں اور میں نے اس کو کچھ درہم بھی دیئے تا کہ وہ میری ہدایت کے مطابق اپنے دوستوں کے درمیان بانٹ لے۔ علی بن حمزہ بطائنی کہتے ہیں: اس کے بعد امام علیہ السلام نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا ان بندگان خدا کے ساتھ میرے سلوک اور ان کے ساتھ میری بات چیت نے آپ کو حیرت زدہ کردیا؟ تعجب نہ کریں کیونکہ "امام کی منزلت و مرتبت ان حدود سے بہت اونچی ہے جہاں تک آپ اور آپ جیسے افراد تصور کرتے ہیں، جو کچھ تم نے اس مجلس میں دیکھا ایک پرندے کی چونچ میں ایک قطرہ پانی جیسا ہے جو اس نے سمندر سے اٹھایا ہوتا ہے۔ کیا سمندر سے ایک قطرہ پانی اٹھانے سے سمندر کے پانی کی مقدار پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد امام رضا علیہ السلام نے فرم
7 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 270607
یہ مختصر پیارے نوجوانوں کے لئے جو حقیقت ڈھونڈنے کے لئے تمامتر وسائل بروئے کار لاتے ہیں تا کہ صحیح کو غلط سے اور خالص کو ناخالص سے تشخیص دیں اور بہترین کا انتخاب کریں۔ اور مؤلف و مترجم کے لئے اس روز کا ذخیرہ ہو جب ((لايَنْفَعُ مالٌ وَ لابَنُون إِلاّ مَنْ اءَتَى اللّهَ بِقَلْبٍ سَليم لي وَ لِوالِدَيّناَ وَ لِمَنْ لَهُ عَلَيّناَ حَقّ)) (انشاء اللّه تعالى )