5 اکتوبر 2011 - 20:30

مصر کے صدارتي انتخابات ميں حصہ لينے کے خواہشمند چھے اميدواروں نے قاہرہ ميں ايک پريس کانفرنس ميں فوجي کونسل سے مطالبہ کيا ہے کہ انتخابات مقررہ وقت سے پہلے کرائے جائيں -

ابنا: قاہرہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق انصاف و مساوات پارٹي سميت تمام سياسي جماعتيں چاہتي ہيں کہ اپريل دو ہزار بارہ تک مصر ميں اقتدار کي منتقلي کا عمل مکمل ہوجائے - مصر کي حکمراں فوجي کونسل کے فيصلے کے مطابق پہلے ملک کا نيا آئين تيار کيا جائے گا ، پھر اس پر ريفرنڈم ہوگا اس کے بعد انتخابات کرائے جائيں گے -

اخوان المسلين، انصاف و مساوات، اور الوفد پارٹي پر مشتمل ڈيموکريٹک الائنس کا کہنا ہے کہ فوجيوں سے عوام کي منتخب حکومت کو اقتدار کي منتقلي کا عمل اپريل دو ہزار گيارہ تک مکمل ہوجانا چاہئے- مصر کي حکمراں فوجي کونسل کے سربراہ محمد حسين طنطاوي کے صدارتي اميدوار بننے کي افواہ سے سياسي جماعتوں ميں يہ تشويش پيدا ہوگئي ہے کہ کہيں فوجيوں کي حکمراني کي مدت ميں توسيع نہ ہوجائے - مصر کے عوام نے اپني انقلابي تحريک کے ذريعے تين عشروں پر محيط حسني مبارک کي آمرانہ حکومت ختم کي اور اب انہيں يہ تشويش ہے کہ سابق ڈکٹيٹر حکومت کا اتحادي مغرب کہيں عوام کے انقلاب کو اس کے راستے اور اہداف سے ہٹاکے عوام کي قربانيوں پر پاني نہ پھير دے - بنابريں چھے اپريل نامي تحريک اور بعض ديگر عوامي تنظيموں اور سياسي جماعتوں نے سات اکتوبر کو انتخابات کے قوانين ميں اصلاح ميں تاخير کے خلاف دھرنے کا اعلان کيا ہے - مصر کي حکمراں فوجي کونسل نے سياسي جماعتوں اور عوامي تنظيموں کے انتباہات کو خاطر ميں لائے بغير آئندہ سال انتيس جنوري اور اٹھائيس نومبر کو انتخابات کرانے کا اعلان کيا ہے -

مصر کي حکمراں فوجي کونسل نے اسي کے ساتھ اس بات کا بھي اعلان کيا ہے کہ جب تک ملک ميں سياسي استحکام قائم نہيں ہوجاتا، ايمرجنسي بھي نافذ رہے گي -

.............

/169