ابنا: نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کے فوراً بعد بھی طالبان کی طرف سے پاکستان کا دفاع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے ان عناصر نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور خاص طور پر شیعہ مسلمانوں کی جان و مال کو لاحق خطرات پر پاکستان کی ریاست کا ساتھ دینے کا کبھی عندیہ نہیں دیا۔
تحریر:تصور حسین شہزاد پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ کی جانب بڑھ رہے ہیں، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سارا ’’تصادم‘‘ محض ڈرامہ ہے اور اس کے پیچھے بھی بہت سے مقاصد پوشیدہ ہیں جبکہ پاک فوج کے ذرائع اس حوالے سے کافی سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں اور سول قیادت بھی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بیدار نظر آ رہی ہے۔ پاک امریکا تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں اسلام آباد میں زبردست سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ فوج کے ہیڈ کوارٹر میں عسکری قیادت کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا جو چھ گھنٹے تک جاری رہا، اگرچہ اجلاس کے بعد سرکاری طور پر کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی قیادت نے متفقہ طور پر امریکی الزامات کو رد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام فیصلے پاکستان کے مفاد میں کیے جائیں گے۔ دوسری طرف وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تمام اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں، تاکہ سیاسی قیادت کے ساتھ متفقہ حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی قیادت نے امریکی الزامات اور دھمکیوں کے ردعمل میں سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر اس پر زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس برس فروری میں دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کا گراف پے در پے واقعات کے نتیجے میں تسلسل کے ساتھ اوپر گیا ہے۔ بظاہر فوجی قیادت کا ردعمل مرتب ہونے کے بعد سیاسی قیادت کے لیے اس سے مختلف مؤقف اختیار کرنا آسان نہیں ہو گا۔ جہاں تک سیاسی خط تنصیف میں داہنے بازو کی قوتوں کا تعلق ہے وہ روایتی طور پر جارحانہ قوم پرستی، تصادم اور بیگانگی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ چنانچہ موجودہ صورت حال میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام اور ایسی دوسری سیاسی قوتوں کا جھکاؤ تردید اور مزاحمت کی طرف ہو گا۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور مسلم لیگ (قائد) کے لیے عملیت پسندی کے تقاضے سمجھنے کے باوجود اپنے روایتی رائے دہندگان کو برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہو گا، ایسی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لیے بہت مشکل ہو گا کہ وہ کوئی ایسا مؤقف اختیار کرے جس کی آڑ میں انہیں قومی مفادات سے انحراف کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔ ان دونوں جماعتوں اور ایم کیو ایم کے لیے حکومت کا حصہ ہونے کے باعث ایسا کرنا اور بھی مشکل ہو گا۔ چنانچہ زیادہ امکان یہ ہے کہ موعودہ گول میز کانفرنس کا نتیجہ 1988ء کی اس گول میز کانفرنس سے مختلف ہو گا جو وزیراعظم محمد خان جونیجو نے بلائی تھی۔ اس کانفرنس میں سیاسی قیادت نے جنیوا سمجھوتے کی حمایت کر کے جنرل ضیا الحق کی سربراہی میں قائم ہیئت مقتدرہ سے انحراف کیا تھا۔ چنانچہ پاکستان کے داخلی سیاسی منظر کی حد تک آئندہ چند روز کی تصویر واضح ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ افغانستان، عالمی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوتوں کے توازن سے متعلق تصویر کے خدوخال بھی اسی آسانی سے مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ امریکا کے دورے پر ہیں جہاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سربراہوں نے انہیں ملاقات کا وقت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر تجارت مخدوم امین فہیم بھارت کے دورے پر پہنچ چکے ہیں، جہاں انہیں مشرقی ہمسائے کے ساتھ تجارت کے امور پر اہم مذاکرات کرنا ہیں۔ موجودہ صورتحال میں شاید پاک بھارت تجارتی تعلقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ کثیر الجہتی معاملات میں کسی مؤقف کی جانچ پرکھ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی دو فریقین کے مابین معاملات پر تیسرے فریق کا ردعمل معلوم کیا جاتا ہے۔ جلد ہی پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں جہادی گروہوں اور تنظیموں کے ایسے بیانات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے جن میں پاکستان کے سرکاری مؤقف سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کے فوراً بعد بھی طالبان کی طرف سے پاکستان کا دفاع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے ان عناصر نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور خاص طور پر شیعہ مسلمانوں کی جان و مال کو لاحق خطرات پر پاکستان کی ریاست کا ساتھ دینے کا کبھی عندیہ نہیں دیا۔ تاریخی طور پر تصادم اور ٹکراؤ کے جوش و خروش میں معتدل اور متوازن آوازیں مزید کمزور ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں سیاست، معیشت اور معاشرت میں عملیت پسندی کے تقاضوں کی طرف توجہ دلانے والی قوتیں پہلے سے کمزور ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ میں ایک سے زیادہ مرتبہ جنگوں اور اس طرح کے دوسرے بحرانوں سے دو چار ہوا ہے۔ اجتماعی سطح پر ہماری کارکردگی ماضی میں زیادہ قابل رشک نہیں رہی۔ مناسب ہو گا کہ پاکستان کی خود مختاری، وقار اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس کا مقصد ممکنہ حد تک تصادم سے گریز ہو۔
...........
/169