ابنا: انہوں نے علماء کی توجہ اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ رائج دینی علوم کے ساتھ ساتھ اپنے مدارس میں جدید اور اعلٰی تعلیم ڈاکٹریٹ تک کی سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی بعض یونیوسٹیوں میں اصول الفقہ اور نہج البلاغہ کی تدریس یہودی ڈاکٹرز کرتے ہیں
قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 23ویں برسی کی مناسبت سے "بیداری اسلامی در افکار شہید عارف حسینی" کے موضوع پر جامعہ روحانیت صوبہ خیبر پختونخواہ کے زیرانتظام ایران کے مقدس شہر قم میں غیر ملکی طلاب کے لئے مخصوص "انٹرنیشنل امام خمینی یونیورسٹی" کے القدس ہال میں ایک عالیشان سمینار کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں پاکستان، ہندوستان اور افغانستان سمیت کئی ملکوں کے سینکڑوں دینی طلباء نے شرکت کی۔ شرکاء سے مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، معروف مذہبی سکالر علامہ سید جان علیشاہ کاظمی اور پاراچنار کے علامہ ثواب علی حیدری نے خطاب کیا۔ مقررین نے شہید عارف حسین حسینی کے افکار کو زندہ رکھنے کی تلقین کی۔ جن میں سے اتحاد بین المسلمین، طاغوت اور شیطانی طاقتوں کے خلاف قیام، اور نظریہ ولایت فقیہ سرفہرست ہیں۔ علامہ ثواب علی حیدری نے جامعہ روحانیت کا مختصر تعارف اور انکی خدمات کا ذکر کیا، نیز پاراچنار، اورکزئی اور ہنگو میں مومنین کی استقامت اور جوانمردی کو خراج تحسین پیش کیا۔ اسکے بعد مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملت تشیع کو در پیش خطرات اور دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں مومنین کی بیداری اور ہوشیاری پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں حالیہ واقعات پر حکومتی بے حسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ علامہ جعفری نے عوام کی توجہ اس نکتے کی خاص طور پر مبذول کرائی کہ علماء اپنی وحدت اور یگانگت کے ذریعے نظریہ ولایت فقیہ کا پاس رکھیں اور معاشرے میں گھل مل کر خدمت کریں۔ عوام سے قریبی رابطہ رکھیں بلکہ عوام کے اندر رہ کر انہیں ملت کے خلاف تمام سازشوں کے مقابلے میں بیدار کریں۔ علامہ سید جان علی شاہ کاظمی نے تزکیہ نفس، عیب جوئی سے پرہیز، نظریہ ولایت فقیہ کا پرچار، اور عوام کو غلط افکار سے بچانے کی تلقین کی۔ انہوں نے علماء کی توجہ اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ رائج دینی علوم کے ساتھ ساتھ اپنے مدارس میں جدید اور اعلٰی تعلیم ڈاکٹریٹ تک کی سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی بعض یونیوسٹیوں میں اصول الفقہ اور نہج البلاغہ کی تدریس یہودی ڈاکٹرز کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان شیعہ پروفیسر ڈاکٹر میسر نہیں۔ انہوں نے مدارس میں فن خطابت کو ایک سبجیکٹ کے طور پر پڑھانے کی بھی تاکید کی اور کہا کہ علماء مدارس میں طلبہ کو مداحی اور ذاکری کے طرز پر فن خطابت سکھائیں۔ کیونکہ ہمارے عوام عام لہجہ کو اتنا پسند نہیں کرتے بلکہ وہ سریلی اور ذاکری انداز میں مطالب اور مصائب سننے کے عادی اور شوقین ہیں۔ جس سے بڑی حد تک عوام کو صحیح اسلامی نظریات سے آگاہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے نظریات کی پرچار کا ایک نیا اسلوب متعارف کرایا اور کہا کہ ہم نے ایک مرتبہ برطانیہ کے شہر لندن میں عیسائیوں کے ساتھ حضرت عیسی ع اور امام حسین ع کے مشترکہ مصائب اور مناقب کا اہتمام کیا، جس میں پہلے حضرت عیسی ع کے مناقب اور مصائب پڑھے اور پھر امام حسین ع کے۔ اور جب عیسی ع کے متعلق مسلمانوں کی محبت انکے مصائب پر گریہ و زاری انہوں نے مشاہدہ کیا تو حیران رہ گئے اور بہت متاثر ہوئے۔ چنانچہ اب اس پروگرام نے اتنی وسعت پیدا کی ہے کہ دوسرے شہروں میں بھی منعقد ہونے لگا ہے اور اسکا اثر عیسائیوں کے ساتھ ساتھ متعصب سنیوں پر بھی یوں ہونے لگا ہے کہ جب عیسائی امام حسین ع کے مصائب پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ اس میں شرکت کرتے ہیں تو ہم کیوں اعتراض کریں۔ انہوں نے آخر میں امام جعفر صادق ع کی شہادت کی مناسبت سے مصائب پڑھ کر پروگرام کا اختتام دعائے امام زمانہ سے کیا۔
...........
/169