ابنا: العالم کے مطابق بحرين کے سياسي رہنما کريم محروس نے بتايا ہےکہ بحرين حکومت کي طرف سے سعودي عرب سے مزيد فوجي روانہ کرنے کي درخواست کے بعد ، مزيد سعودي فوجي ، بحرين پہنچ گئے ہيں جنہيں دار الحکومت منامہ ميں تعينات کر ديا گيا ہے - انہوں نے بتايا کہ عوامي مظاہروں کو جاري رکھنے کا مقصد ، بحرين کي حکومت سے نفرت کا اظہار اور اس حقيقت کا اعلان ہے کہ آل خليفہ حکومت کي جانب سے مظاہرين کي سرکوبي اور دہشت گردانہ اقدامات ، بدستور جاري ہيں -
اس سياسي کارکن نے کہا کہ آل خلفيہ حکومت گزشتہ سات مہينوں کے دوران ملک کے بحران کو سياسي طور پر حل کرنے ميں کامياب نہيں ہوئي اسي لئے وہ حالات پر قابو کے لئے تشدد اور فوجي راستوں کا استعمال کر رہي ہے -
واضح رہے کہ فروري کے مہينے ميں بحرين ميں عوامي انقلاب کے آغاز کے ساتھ ہي آل خليفہ حکومت نے عالمي اداروں کي خاموشي کے درميان مظاہرين کي سرکوبي شروع کر دي تھي اور اب تک سو سے زائد مظاہرين ،سعودي اور بحريني فوجيوں کے ہاتھوں جاں بحق ہو چکے ہيں. .....
169