ابنا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحم اللہ و برکاتہ
الحمدللہ رب العالمین و الصلو و السلام علی سیدنا محمد و آلہ الطیبین و صحبہ المنتجبین قال اللہ العزیز الحکیم: بسماللہالرحمنالرحیم یا یہا النبِی اتقِ اللہ و لا تطِعِ الافِرین و المنافِقین ِن اللہ ان علیما حیما(1) و اتبِع ما یوح ِلی مِن ربِ ِن اللہ ان بِما تعملون خبیرا (2) و تول عل اللہِ و ف بِاللہِ ویلا (3) [احزاب۔
حاضرین محترم اور مہمانان عزیز کو خوش آمدید کہتا ہوں
اس جگہ ہم سب کو جس چیز نے یکجا کیا ہے وہ اسلامی بیداری ہے۔ یعنی امت اسلامیہ کے اندر پیدا ہونے والی آگاہی اور انگڑائی جو اس وقت علاقے کی قوموں میں عظیم تبدیلی پر منتج ہوئی ہے اور انقلابوں اور عوامی تحریکوں کا سرچشمہ قرار پائی ہے جس کا علاقائی اور بین الاقوامی سطح کے شیطانوں کو قطعی کوئی اندازہ نہیں تھا، ایسی عوامی تحریکیں جنہوں نے استبداد اور استکبار کے حصار کو توڑ دیا اور ان کی طرف سے نگہبانی پر مامور قوتوں کو ہزیمت سے دوچار کر دیا۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عظیم سماجی تغیرات ہمیشہ تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار اور علم و آگہی اور تجربات کے ثمرات ہوتے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران مصر، عراق، ایران ہندوستان اور ایشیا و افریقہ کے دیگر ممالک میں اسلامی تحریکیں چلانے والی عظیم فکری و جہادی شخصیات کا ظہور عالم اسلام کی آج کی صورت حال کا مقدمہ تھا۔جس طرح سنہ انیس سو پچاس اور ساٹھ کے عشرے کے تغیرات بعض مذکورہ ممالک میں مادہ پرست مکاتب فکر اور نظریات والی حکومتوں کی تشکیل کا باعث بنے تھے اور اپنے فطری تقاضوں کے مطابق دیکھتے ہی دیکھتے مغرب کی استکباری اور استعماری طاقتوں کے دام میں گرفتار ہوتے چلے گئے وہ بڑے سبق آموز تجربات ہیں جن کا عالم اسلام کے موجودہ عوامی فکری رجحان کی سمت کے تعین میں اہم کردار ہو سکتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کا واقعہ جس میں بقول امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے، شمشیر پر خون کو فتح حاصل ہوئی، اسی طرح پائیدار، مقتدر، شجاع اور مسلسل ارتقائی منزلیں طے کرنے والے اسلامی نظام کی تشکیل اور آج اسلامی بیداری میں اس کی گہری تاثیر بجائے خود بڑی طویل اور بحث و تحقیق طلب داستان ہے جو عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کے تجزئے اور اس کی تاریخ نگاری کا انتہائی اہم باب ثابت ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ عالم اسلام میں اس وقت تیزی کے ساتھ پھیلنے والے حقائق ایسے نہیں ہیں کہ تاریخی بنیادوں اور فکری و سماجی مقدمات سے جن کا کوئی تعلق نہ ہو کہ دشمن اور سطحی فکر کے لوگ انہیں وقتی ہیجان اور سطحی حادثہ قرار دیں اور اپنے متعصبانہ اور گمراہ کن تبصروں سے قوموں کے دلوں میں روشن ہونے والی امید کی شمع کو خاموش کر دیں۔ میں اس برادرانہ گفتگو میں تین بنیادی نکات کا جائزہ لینا چاہوں گا،ان انقلابوں اور عوامی تحریکوں کی ماہیت پر اجمالی تبصرہ ، سر راہ پیش آنے والے خطرات اور اندیشے،ان خطرات کی پیشگی روک تھام اور ان سے نجات کے طریقوں سے متعلق تجاویز۔پہلے موضوع کے سلسلے میں، میری نظر میں جو چیز ان انقلابات کے تعلق سے سب سے اہم ہے میدان عمل اور مجاہدت کے پلیٹ فارم پر خود عوام کی براہ راست موجودگی ہے، صرف خواہش و ایمان و ایقان کی صورت میں نہیں بلکہ باقاعدہ جسمانی طور پر۔ اس شراکت اور ان قیاموں میں بہت فرق ہے جو کسی فوجی گروہ یا مسلح تنظیم کے ذریعے لوگوں کی نظروں کے سامنے انجام پاتے ہیں یا عوام کی رضامندی بھی ان میں شامل ہوتی ہے۔ افریقہ اور ایشیا کے بعض ممالک میں سنہ انیس سو پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں جو واقعات رونما ہوئے ان میں ان ممالک کے مختلف عوامی طبقات اورنوجوانوں کے دوش پر انقلاب آگے نہیں بڑھا بلکہ کچھ باغی گروہوں اور چھوٹی مسلح تنظیموں نے اس مہم کی کمان سنبھالی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا اور وارد عمل ہو گئیں، پھر جب یہ تنظیمیں یا ان کے بعد آنے والی نسل نے کچھ خاص عوامل اور محرکات کی بنیاد پر اپنا راستہ بدل لیا تو ان کے ذریعے کامیاب ہونے والے انقلابوں کی ماہیت بھی دگرگوں ہوکر رہ گئی، نتیجتا ان ممالک پر دشمن نے دوبارہ اپنے پنجے گاڑ لئے۔ اس میں اور عوام کے دوش پر آگے بڑھنے والی تحریک میں بہت فرق ہے۔ اس وقت عوام دل و جان سے میدان عمل میں مصروف پیکار ہیں اور اپنی مجاہدت و فداکاری سے دشمن کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ آج عوام خود نعروں کا تعین کر رہے ہیں، اہداف کی نشاندہی کر رہے ہیں، دشمنوں کی شناخت اور ان کے تعاقب کا اہم کام انجام دے رہے ہیں، مطلوبہ مستقبل کا اجمالی ہی سہی ایک خاکہ تیار کر چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ "سازشی خواص" کو اور خاص طور پر دشمن سے وابستہ داخلی عناصر کو انحراف پیدا کرنے، دشمن سے ساز باز اور سمت کو مکمل طور پر دگرگوں کر دینے کا موقع نہیں دے رہے ہیں۔عوامی تحریک کی صورت میں ممکن ہے کہ انقلاب کا عمل سست رفتاری سے آگے بڑھے لیکن بے ثباتی اور سطحی فکر سے دور رہے گا، یہ ا ایسا کلمہ طیبہ ہے جو اس کلام خداوندی کا مصداق ہے: لم تر یف ضرب اللہ مثلا لِم طیِب شجر طیِب صلہا ثابِت و فرعہا فِی السماِ (ابراہیم ۔ میں نے جیسے ہی ٹیلی ویزن سے التحریر اسکوائر پر مصر کی مایہ ناز قوم کی شجاعت کا مشاہدہ کیا، مجھے پورا یقین ہو گیا کہ کامیابی اس انقلاب کا مقدر ہے۔ میں ایک حقیقت آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں: ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی نظام کی تشکیل مغرب و مشرق کی دنیا پرست حکومتوں کے اندر عظیم زلزلے کا باعث بنی اور جس نے مسلمان قوموں کے اندر عدیم المثال جوش و جذبہ بھر دیا، ہمیں یہ توقع تھی کہ مصر دوسرے ملکوں سے پہلے قیام کرے گا۔ مصر میں جہاد، روشن خیالی اور عظیم مجاہد و مدبر شخصیات کی تربیت کی وجہ سے ہمارے دلوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی لیکن مصر سے ہمیں کوئی واضح آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میں مصری عوام کے لئے اپنے دل ہی دل میں ابو فراس کا یہ شعر گنگنایا کرتا تھا کہ اراک عصِی الدمعِ شیمتک الصبر اما لِلہوی نہی علیک و لا امر ..؟جب میں نے التحریر اسکوائر اور مصر کے دیگر شہروں کے مناظر دیکھے تو مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا۔ مصری قوم نے اسی دل کی آواز سے مجھے جواب دیا کہ بلی انا مشتاق و عِندِی لوع ولکن مِثلی لایذاع لہ سِر .یہ مقدس راز یعنی قیام کا عزم اور جوش و جذبہ بتدریج مصری قوم کے ذہن میں پروان جڑھتا رہا، خاص قالب میں ڈھلتا رہا اور مناسب تاریخی موڑ پر آکر بڑے پرشکوہ روپ میں پردہ راز سے نکل کر میدان میں آ گیا۔ تیونس، یمن، لیبیا اور بحرین کا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔و مِنہم من ینتظِر و ما بدلوا تبدیلااس طرح کے انقلابات میں اصول، اقدار اور اہداف جماعتوں اور تنظیموں کے پہلے سے مدون منشور میں نہیں بلکہ میدان عمل میں موجود عوام کے ذہن و دل اور خواہشات کے صفحے پر لکھے جاتے ہیں اور ان کے نعروں اور اقدامات کی صورت میں سامنے آتے اور خود کو تسلیم کرواتے ہیں۔ اس نقطہ نگاہ کے تحت بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ مصر اور دیگر ممالک کے انقلابوں کے اصول یہ ہیں؛اس قومی وقار کا احیا اور بازیابی جو بدعنوان حکام کے آمرانہ اقتدار یا امریکہ و مغرب کے سیاسی تسلط کے نتیجے میں پامال ہوکر رہ گیا تھا۔ اسلام کے پرچم کی سربلندی جو عوام الناس کی دیرینہ دلی آرزو اور ان کے پختہ ایمان کا ایک پہلو ہے، ذہنی و فکری آسودگی اور پیشرفت و شکوفائی جو اسلامی شریعت کے سائے میں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے تسلط اور نفوذ کے مقابلے میں، جس نے دو صدیوں کے دوران ان ممالک کے عوام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ان کی توہین کی ہے، استقامت و پائیداری جعلی اور غاصب صہیونی ریاست سے مقابلہ جسے استعمار نے کسی خنجر کی طرح علاقے کے ملکوں کے پہلو میں پیوست کر دیا ہے اور اپنے شیطانی تسلط کو جاری رکھنے کے لئے ایک حربہ بنا رکھا ہے اور ایک قوم کو اسکی اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا ہے۔ بلا شبہ یہ حقیقت کہ علاقے کے ان انقلابات کی بنیاد یہی اصول ہیں اور علاقہ ان پر عملدرآمد کا خواہشمند ہے امریکہ، مغرب اور صہیونزم کو گوارا نہیں ہے اور وہ اس حقیقت کا انکار کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا رہے ہیں لیکن ان کے انکار سے حقیقت بدلنے والی نہیں ہے۔ ان انقلابوں کا عوامی ہونا ان کی اہم ترین شناخت ہے۔ بیرونی طاقتیں جو اپنی تمام تر توانائیوں اور چالوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ کوشش کر رہی تھیں کہ ان ممالک میں بدعنوان، استبدادی اور ان کے اشاروں پر کام کرنے والی حکومتوں کی حفاظت کریں اور انہوں نے اس وقت یہ حمایت بند کی جب عوام کے قیام اور قوت ارادی نے ان کے لئے کوئی امید باقی نہیں چھوڑی، ان طاقتوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ خود کو ان انقلابوں کی کامیابی کا سہر اپنے سر باندھیں۔ لیبیا میں بھی امریکہ اور نیٹو کی دراندازی اور مداخلت اس حقیقت کو مشتبہ نہیں بنا سکتی۔ لیبیا میں نیٹو نے ناقابل تلافی المیئے رقم کئے ہیں۔ اگر نیٹو اور امریکہ کی فوجی مداخلت نہ ہوتی تو بے شک یہ ممکن تھا کہ عوام کو کچھ تاخیر سے فتح ملتی لیکن اتنی بنیادی تنصیبات مسمار ہونے سے بچ جاتیں، اتنی بے گناہ جانیں، عورتیں اور بچے تلف نہ ہوتے اور برسہا برس سے قذافی کی مدد میں پیش پیش رہنے والے یہ دشمن اس جنگ زدہ مظلوم ملک میں دخل اندازی نہ کرتے۔ عوام اور ممتاز عوامی شخصیات اور عوام کے بیچ سے اٹھ کر آنے والے رہنما اس انقلاب کے معمار، اس کے محافظ، اس کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، انشا اللہ۔2: جہاں تک خطرات اور اندیشوں کا تعلق ہے تو سب سے پہلے میں اس بات پر تاکید کروں گا کہ خطرہ بے شک موجود ہے لیکن اس سے بچنے کا راستہ بھی ہے۔خطرات کی طرف توجہ قوموں میں خوف و ہراس پھیلنے کا باعث نہیں بننا چاہئے بلکہ آپ کے دشمنوں پر خوف طاری ہونا چاہئے۔ ان کید الشیطان کان ضعیفا۔اللہ تعالی صدر اسلام کے مجاہدین کے ایک گروہ کے سلسلے میں فرماتا ہے کہ الذِین قال لہم الناس ِن الناس قد جمعوا لم فاخشوہم فزادہم ِیمانا و قالوا حسبنا اللہ و نِعم الوِیل. فانقلبوا بِنِعم مِن اللہِ و فضل لم یمسسہم سو و اتبعوا رِضوان اللہِ و اللہ ذو فضل عظِیم.خطروں کی شناخت کرنا چاہئے تاکہ اس کا سامنا ہونے پر اضطراب اور پس و پیش کی کیفیت پیدا نہ ہو بلکہ راہ حل پہلے سے معلوم رہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ان خطرات سے ہم بھی دوچار ہو چکے ہیں۔ ہم نے انہیں پہچان لیا، ان کے سلسلے میں تجربہ حاصل کر لیا۔ اللہ تعالی کی مرضی، امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی قیادت اور عوام کی بصیرت و فداکاری کے ذریعے ہم ان کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ البتہ دشمن کی جانب سے سازشیں اور ہماری قوم کا استقامت آج بھی جاری ہے۔میں ان خطرات کو دو قسموں میں تقسیم کرتا ہوں۔ ایک تو وہ خطرات ہیں جن کی جڑیں ہماری اندرونی صفوں میں موجود ہیں اور ان کا سرچشمہ خود ہماری کمزوریاں ہیں اور دوسرے و