14 ستمبر 2011 - 19:30

يمن کے درالحکومت صنعا اور جنوبي شہر عدن ميں فائرنگ اور بم دھماکوں ميں تين افراد ہلاک اورپانچ ديگر زخمي ہوگئے ہيں-

ابنا:‌ سيکورٹي ذرائع نے بتايا ہے کہ يمن کے جنوبي شہر عدن کے شمالي علاقے المنصورہ ميں ايک پوليس اشٹيشن کے قريب ہونے والے دو بم دھماکے اور فائرنگ ميں ايک چودہ سالہ لڑکا ہلاک اور پانچ افراد زخمي ہوگئے- کہا جارہا کہ ايک اور بم دھماکے ميں انٹيلييجنس کے ايک دفتر کو نشانہ بنايا گيا ہے- دارالحکومت صنعا ميں ہونے والے ايک اور واقعے ميں کم از کم دو عام شہري اس وقت مارے گئے جب توپ خانے سے داغا جانے والا ايک گولہ الحسبہ نامي علاقے ميں واقع انکے گھر پر آگرا- يہ حادثہ حاشد قبيلے کے سردار شيخ صادق احمر کے گھر کے قريب پيش آيا جنکي فورس ملک کے ڈکيٹٹر عبداللہ صالح کے حاميوں فوجيوں کے خلاف پر سر پيکار ہے-

دوسري جانب العالم ٹيلي ويژن نے يمن ميں آمريت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے حوالے سے خبر دي ہے کہ سعودي فوجيوں کا ايک بکتر بند دستہ اپنے تمام فوجي ساز وسامان کے ساتھ، جنوبي يمن کي بندر گاہ عدن بھيجا گيا ہے تاکہ عبداللہ صالح کي آمريت کے خلاف اٹھنے والے عوامي انقلاب کو دبايا جاسکے- اس رپورٹ کے مطابق قبل ازين سعودي عرب کي جانب سے ارسال کي جانے والي جديد ترين بکتر بند گاڑياں عدن کي بندرگاہ سے خورمکسر نامي شہر ميں واقع النصر فوجي چھاؤني ميں پہلے ہي منتقل کي جاچکي ہيں-

ذرائع کا کہنا ہے کہ يمن ميں اسلامي بيداري اور آمريت کے خلاف تحريک کے آغاز کے بعد يہ دوسري بار ہے جب سعودي عرب نے يمني حکومت کے لئے بہت بڑي فوجي کمک روانہ کي ہے- سعودي حکومت کي جانب سے يمن کي ڈکٹيٹر حکومت کي فوجي اور سياسي حمايت کو اس تشويش کا آئينہ دار قرار ديا جاسکتا ہے کہ کہيں يمن کي عوامي تحريک کے شعلے سعودي عرب کے اندر تک نہ پہنچ جائيں-
............

/169