ابنا: مظاہرین ٹل پارا چنار روڈ کی بندش کے سبب سی ون تھرٹی اور ہیلی کاپٹر سروس مہیا کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے انہوں نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ۔ مظاہرین کا کہناہے کہ حکومت پاراچنار کے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ شرپسند عناصر جو مل کر آپریشن کلین اپ کے خوف سے روپوش ہو گئے تھے۔ آپریشن کے غیر موثر ہونے کی بناء دوبارہ علاقے میں امن و امان کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اب ہفتہ وار بنیاد پر جو کاروان کانوائے ایف سی کی نگرانی میں ٹل پاراچنار روڈ سے گزرتے تھے دہشت گردوں نے انہیں بھی کھلے عام چیلنج کر دیا ہے اور اس وقت پاراچنار کے لوگ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے ٹل پاراچنار روڈ پر حکومتی کنٹرول پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے اور ٹل روڈ پر ایف سی کی نگرانی کے باوجود مسلسل دہشت گردی کے واقعات پر شدید ردعمل کا اظہار کر دیا ہے اور اس بات سے صاف انکاری ہیں کہ اب وہ ایف سی کی نگرانی کے باوجود اس روڈ پر سفر نہیں کریں گے لہٰذا حکومت فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر ہیلی کاپٹر سروس شروع کرے اور C-130 بھی فوج کی نگرانی میں چلائے جائیں۔ اس وقت پاراچنار کے لوگ علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ علاقے کے مکینوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کسی کا ویزہ ختم ہو رہا ہے۔ جو عید کی چھٹیوں میں اپنے علاقوں میں آئے تھے انہیں واپس اپنی تعلیمی درس گاہوں میں جانا ہے حتیٰ وہ سرکاری ملازمین جو عید گزارنے اپنے علاقوں میں گئے تھے وہ ابھی تک اپنی ڈیوٹیوں پر واپس نہیں جا سکے لہٰذا یہ صورتحال علاقے کے مکینوں کے لیے ناقابل برداشت ہے اور کانوائے متاثر ہونے کی وجہ سے روز مرہ اشیاء کی قلت بھی ہوتی جا رہی ہے اور ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی ان مشکلات کے تدارک کے لیے فوری طور پر ہنگامی اقدامات کرے۔




.............
/169