ابنا: یاد رہے شمالی افریقہ اور خلیج فارس کے بعض عرب ملکوں میں عوامی تحریکوں گے شروع ہونے کےبعد شام کےبعض ہمسایہ ملکوں نے شام میں بھی حکومت کے خلاف عوام کوابھار نے کی کوشش کی جس کےنتیجے میں شام میں بدامنی پھیل گئي۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے روس نے ہمیشہ شام میں کے خلاف سازشوں کی مخالفت کی اور کوشش کی ہےکہ شام کے حالات کے تعلق سے متوازن پالیسیاں اپنائے۔ ماسکو کا یہ کہنا ہےکہ امریکہ اور اس کےاتحادیوں کی جانب سے شام میں بدامنی پھیلانے کا مقصد عرب ملکوں میں عوامی تحریکوں کو منحرف کرنا ہے بنابرین کرملین نے اب تک شام کے خلاف سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مخالفت کی ہے ۔ روس کا کہنا ہےکہ شام میں دیگر ملکوں کو مداخلت نہیں کرنا چاہیے بلکہ صدر بشار اسد کی حکومت اور مخالفیں میں مذاکرات سے مسائل حل کئےجانے چاہیں۔ روس نے شام میں اصلاحات پربھی زور دیاہے۔ روس اور شام کے وزرا خارجہ کی ٹیلیفونی گفتگو اور شام کے وفد کا دورہ ماسکو ایسے وقت میں انجام پارہا ہےکہ مغربی ممالک اور قطر ، سعودی عرب اور ترکی نے شام پر دباو بڑھا دیا ہے اور شام کے خلاف شدید پروپگينڈا وار شروع کردی ہے۔ روس کےحکام کا کہنا ہےکہ امریکہ ، یورپ اور شام کے ہمسایہ ملکوں کےحکام شام کے حالات کوبڑھا چڑھا کر پیش کررہےہیں ۔ روس کے حکام کا کہنا ہےکہ شام کے امور میں مداخلت سے نہ صرف اس ملک میں داخلی جنگ شروع ہوجاے گي بلکہ بدامنی میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوجاے گا جس کے نتیجے میں مشرق وسطی میں نہایت ناخوشگوار واقعات اور الميے رونما ہوسکتے ہیں بنابریں روس اور شام کے وزرا خارجہ نے اپنی ٹیلیفونی گفتگو میں شام کی حکومت کے خلاف امریکہ ، یورپ سعودی عرب ، قطر اور ترکی کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی راہوں کا جائزہ لیا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر کہا ہےکہ شام کو مخالفیں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیں اور اسی طرح اصلاحات پربھی عمل کرنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ روسی وزارت خارجہ کے بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی گئي ہے کہ صدر بشار اسد کے مخالفیں پردباو ڈالا جائے تا کہ وہ دمشق سے مذاکرات کرنے پرراضی ہوجائيں جس کے سہارے اصلاحات کا عمل صحیح طریقے سے آگے بڑھ سکے نیز مسلح اور انتھا پسند گروہوں کو شام میں لیبیا کے حالات کا نقشہ کھینچنے کا موقع نہ مل سکے۔...........
/169