2 ستمبر 2011 - 19:30

انساني حقوق کے امريکي کارکن نے مخالفين کو ٹھکانے لگانے کي غرض سے دنيا بھر ميں امريکي فوج کي خفيہ کاروائيوں پر سخت تشويش کا اظہار کيا ہے-

ابنا:پريس ٹي وي سے بات چيت کرتے ہوئے انساني حقوق کے امريکي کارکن اور عالمي قانون داں پول وولف نے کہا ہے کہ قوانين سے ہٹ کر امريکي صدر کي براہ راست نگراني ميں انجام پانے والي امريکي فوج کي خفيہ کاروائياں انتہائي تشويشناک ہيں- انہوں نے کہا کہ جنگ ويتنام ميں بھي ايسے ہي ہتھکنڈے استعمال کئے گئے تھے اور جس طرح اس جنگ ميں امريکہ کو ايسے اقدامات سے کوئي مدد نہيں ملي تھي آج بھي وائٹ ہاوس کو کوئي فائدہ نہيں ملے گا-

امريکي اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپني ايک رپورٹ ميں لکھا ہے کہ امريکي فوج ميں جے ايس او سي کے نام سے خصوصي کمانڈ قائم کي گئي ہے جو دنيا بھرميں دہشتگردي کي کاروائيوں ميں مبينہ طور پر ملوث افراد کو قتل، گرفتار اور تفتيش کرنے کے مشن پر کام کر رہي ہے- کہا جارہا ہے کہ جے ايس او سي اب تک افغانستان اور عراق ميں متعدد کاروائياں انجام دے چکي ہے اور گرفتار شدہ گان کو خفيہ جيلوں ميں قيد رکھا جارہا ہے-..............

/169