ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے جمعے کی رات ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یوکیا آمانو کی تازہ رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اس رپورٹ میں بھی یہ بات دوہرائي گئي ہےکہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں قانون سے انحراف نہیں دیکھا گيا ہے اور اس میں بعض نئے مثبت نکات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جوبیشتر ایران کے تعاون اور شفاف سازی کے بارے میں ہیں۔ سلطانیہ نےکہا کہ اس رپورٹ میں ویانا میں ایران اور آئي اے ای اے نمائندوں کے درمیاں ملاقات اور بوشہر ایٹمی بجلی گھر، نظنز اور فردو کی ایٹمی تنصیبات نیز اصفہان کی تنصیبات اور اراک کے ہیوی واٹر پلانٹ نیز اراک میں ہیوی واٹر کی تیاری کے پلانٹ اور پیشرفتہ سنٹری فیوج مشینوں کے تحقیقاتی مرکز کے معائنے کی تفصیلات بھی آئي ہیں۔ سلطانیہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں صراحت کے ساتھ ایران کی جانب سے معلومات فراہم کرنے نیز ابھامات دور کرنے اور بعض سوالات کے جوابات دینے کےبارے میں ایران کے تعاون کی طرف اشارہ کیا گيا ہے ۔ آئي اے ای اے میں ایران کے سفیر نے کہا کہ البتہ یوکیا آمانو کی تازہ رپورٹ میں کچھ ناقابل قبول تکراری باتیں بھی کی گئي ہیں جن میں سلامتی کونسل کی قراردادوں اور یورینیم کی افزودگي کے روکے جانے کا مطالبہ شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے عالمی قوانین کے مطابق ثابت کردیا ہےکہ یہ درخواستیں غیر قانونی ہیں اور ان کی کوئي قانونی اور تیکنیکی بنیاد نہیں ہے۔ علی اصغر سلطانیہ نے امید ظاہر کی کہ آئي اے ای اے تعمیری اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرکے سیاسی دباو اور شوروغل کی فضا سے دور ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گي تاکہ عالمی برادری اس حقیقت سے آشنا ہوتی جاے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طرح سے پرامن ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے عالمی قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کررہا ہے ۔ علی اصغر سلطانیہ نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران آئي اے ای اے کے منشور اور این پی ٹی معاہدے میں مندرج اپنے مسلمہ حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ان پر کسی طرح کا معاملہ کرے گا۔.............. /169
2 ستمبر 2011 - 19:30
News ID: 263412
ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہےکہ آئي اے ای اے کے ڈائرکٹر یوکیا آمانو کی تازہ رپورٹ ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کا ثبوت ہے۔