25 اگست 2011 - 19:30

آج عالمی یوم القدس ہے۔ ہر سال ماہ رمضان المبارک میں جمعۃ الوداع کو دنیا کے آزاد ضمیر اور حریت پسند لوگ ریلیاں نکال کر ملت فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے ساتھ ساتھ غاصب صہیونیوں کے قبضے سے قبلۂ اول قدس شریف کی آزادی پر زور دیتے ہیں۔

ابنا: اگست انیس سو اناسی میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس کا نام دیا اور تب سے لے کر آج تک یہ پوری دنیا میں انتہائي جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور یہ فلسطینی کاز کی حمایت کے مظہر میں تبدیل ہو گيا ہے۔ اس میں کوئي شک و شبہ نہیں ہے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے اس اقدام سے قدس کا مسئلہ ایک عرب مسئلے سے نکل کر عالمی مسئلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔

دنیا کے بہت سے دانشور یوم القدس کو صہیونی ریاست کے لیے ایک ڈراؤنا دن سمجھتے ہیں۔ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے ایک سینیئر رہنما ماہر الطاہر نے عالمی یوم القدس کو بیت المقدس کی آزادی کے لیے ایک حقیقی آواز قرار دیا ہے۔ بیت المقدس جو انبیائے الہی کا گہوارہ ہے ، اس پر انیس سو سڑسٹھ میں صہیونی ریاست نے قبضہ کر لیا۔ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران صہیونی ریاست نے مختلف طریقوں سے اس مقدس شہر کے عرب اور اسلامی آثار کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ ادیان الہی کے پیروؤں کے نزدیک خاص تقدس کی حامل مسجد الاقصی کے صحن کے نیچے متعدد سرنگوں کی کھدائی، مقبوضہ شہر بیت المقدس میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور مسلمان فلسطینیوں کو اس شہر سے ہجرت پر زبردستی مجبور کرنا ان اقدامات میں سے ہیں کہ جو بیت المقدس شہر کے مقبوضہ ہونے پر مبنی بین الاقوامی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور صہیونی ریاست ان اقدامات کو بےدھڑک انجام دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ غزہ پٹی کے نہتے فلسطینیوں پر آئے دن کے وحشیانہ حملے اس ظلم کا ایک اور نمونہ ہے کہ جو فلسطین کے حقیقی باشندوں پر غاصب صہیونی ریاست روا رکھے ہوئے ہے اور انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں سمیت عالمی برادری اس پر چپ سادھے ہوئے ہے اور صہیونی ریاست کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں ہے۔

صہیونی ریاست نے فلسطین پر اپنے قبضے کے ترسٹھ برسوں کے دوران فلسطینی قوم پر کسی بھی ظلم و بربریت سے دریغ نہیں کیا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض عرب حکمرانوں نے صہیونی ریاست کے ساتھ ساز باز کر کے مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو نہ صرف کم کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ عالمی سطح پر صہیونی ریاست کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اس کی مدد بھی کی ہے اور اس طرح انہوں نے عملی طور پر فلسطینی کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔
لیکن بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دے کر صہیونی ریاست  کی اصلیت دنیا والوں کے سامنے کھول کر رکھ دی اور مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں اقوام عالم کی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یوم القدس اس ناجائز حکومت کے خلاف دنیا کی آزاد اقوام کے غصے کی علامت میں تبدیل ہو گيا ہے کہ جس کی بنیاد ظلم و تشدد اور مظلوم فلسطینی قوم کے قتل عام پر استوار ہے۔
اب علاقے کی اقوام کو امید ہے کہ فلسطینی کاز سے اقوام عالم کی وابستگی اور یکجہتی مضبوط ہونے سے ایک دن وہ قدس شریف کو صہیونی چنگل سے آزاد ہوتا ہوا دیکھیں گی۔
............. 
/169