اور ہاں! آج امت کی داستان مختلف ہے؛ وہ پودا جو تیس سال قبل خمینی کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے جد امجد حضرت حسین بن علی (ع) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امت کے ضمیر میں لگایا تھا، آج ایک تناور درخت میں تیدیل ہوچکا ہے۔ اس وقت علاقے کے غلام حکام یکے بعد دیگرے تخت بادشاہی سے خاک ذلت کی طرف کھینچے جارہے ہیں؛ بعض بے خانماں ہوکر دوسرے ممالک میں آوارہ پھر رہے ہیں اور بعض الزامات کے پنچروں میں بند اپنے بدبختی سے بھرپور مقدر کا سامنا کررہے ہیں جبکہ بعض دیگر ناامیدی کے عالم میں اپنی بقاء کے لئے ہر تنکے کا سہارا لے رہے ہیں۔
پہلی تصویر موضوع سخن ہے لیکن دوسری تصاویر بھی کم اہمیت نہیں رکھتیں؛ دیکھئے:














دہشتگردی ختم کرنے والے ہی دہشت گرد ہیں
ماں ...... از ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
میرے اندر ایک عجب سی اداسی چھائی ہے بیٹیجیسے ایک ہو کا عالم ہے اور میں ریزہ ریزہ ہو رہی ہوںمیرے ہونٹوں پر اگی پیاس کسی دریا کے کنارے دم توڑتی ہواور موت جیسے سر پر کھڑی ہے میری بیٹیہر پہر دکھ کی گھڑی ہے میری بیٹیسورج زمین پر آگ کی مانند قہر برسا رہا ہے٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ (حذف)تم سچ کہتی ہو ماںیہ ہمارا شہر نہیں کوئی گھنا جنگل ہے ماںجہاں ہر طرف اندھیرا رہتا ہےہر پل چیخنے رونے کی آوازیں آتی ہیںیہاںً بس گدھ اور لومڑیوں کا راج ہے ماںدہشتگردی ختم کرنے والے ہی دہشت گرد ہیں ماںمیری پیاری بیٹیبس نہ رونہ غم کربس صبر کر میری بیٹیمیں تیری دمساز تیرے ساتھ ہوں میری بیٹیجانتی ہوں نازک ہے تیرا پھول جیسا بدن اور یہ بوٹ ہیں بھاریکیسے بتاؤں تجھےان بوٹوں تلے تیرا معصوم بدن نہیں میرا کلبوت ہے بیٹیہائےتجھے کیسے بچاؤںاب کسے پکاروںیہاں سارے “ مرحب “ ہیں میری بیٹیکہنے کو بہادر اور سرکار ہیں یہ لوگپر ہیں سب اسلحہ پوش اور اسلحہ فروشیاد رکھنایہ سب سفاک اور جلاد ہیں میری بیٹیصدحیف ۔۔یوں لگتا ہے جیسے اپنے سر تن سے جدا کرنے کا موسم آگیا میری بیٹیکوئی نہیں رہا جو اپنی ذوالفقار (تلوار) کو لہرائےمرحب کو للکارےآنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہےمیں وہ ہوں کہمیری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہےمیں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوںاور پھردشمن کو ایک ہی ضرب سے ڈھیر کر دےہائے ۔۔سب گونگے بہرے ہو گئے ہو جیسےان کے ضمیر ہماری قسمت سو گئی ہو جیسےمرے ہوؤں کو اب نہ پکار میری پیاری بیٹیاس بوٹ کے بوجھ کو اپنا مقدر سمجھ لے بیٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110