23 اگست 2011 - 19:30

وزير خارجہ علي اکبر صالحي، صوماليہ کا ايک روزہ دورہ مکمل کرکے تہران لوٹ آئے ہيں-

ابنا: انہوں نے اپنے دورہ صوماليہ کے دوران موغاديشو ميں اس ملک کے وزير اعظم اور وزير داخلہ سے ملاقات اور گفتگو کي-

وزير خارجہ نے صوماليہ کے قحط زدہ عوام کے اجتماعي کيمپوں کا قريب سے معائنہ کيا اور ان افراد تک امداد رساني کے طريقہ کار کے بارے ميں معلومات حاصل کيں- علي اکبر صالحي نے صوماليہ کے عوام کي امداد کے ليے ايران کي ہلال احمر سوسائٹي کي کوششوں کي قدرداني کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صوماليہ کے تقريبا پينتيس ہزار افراد، ايران کي ہلال احمر سوسائٹي کے زير نگراني ہيں-

واضح رہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران، صوماليہ کے قحط زدہ عوام کے ليے انسان دوستانہ امداد کي اب تک چھے کھيپيں روانہ کر چکا ہے-ايران کي ہلال احمر سوسائٹي کے اعلي عہديدار کے مطابق ايراني ڈاکٹروں اور طبي علمے پر مشتمل ايک ٹيم بھي اس وقت قحط زدگان کو طبي سہولتوں کي فراہمي ميں مصروف ہے- صوماليہ کي آدھي سے زيادہ آبادي کو شديد خشک سالي اور قحط کا سامنا ہے جسکے اثرات پورے شمالي افريقا کو اپني لپيٹ ميں لے سکتے ہيں-

عالمي اداروں کي رپورٹوں کے مطابق صوماليائي بچوں کي آدھي سے زيادہ تعداد غذائيت کي کمي کا شکار ہے اور ہر روز چھے بچے بھوک کا شکار ہوکر جاں بحق ہورہے ہيں-..............

/169