اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لیبیائی انقلابیوں نے چند ہی منٹ قبل دارالحکومت کے مغربی حصے پر قبضہ کرلیہ ہے جبکہ تہران کے وقت کے مطابق آج رات 21:30 بجے کی خبروں کے مطابق 200 انقلابی فورسز سمندر کے راستے طرابلس میں داخل ہوکر طرابلس کے فوجی ائیرپورٹ کے احاطے میں قذافی کی وفادار گروپوں کے ساتھ جھڑپوں کا آغاز کردیا تھا۔
انقلابیوں نے اس پیشقدمی کے دوران ایک فوجی چھاؤنی پر قبضہ کیا اور ایک جیلخانے میں موجود قیدیوں کو رہا کردیا۔
ایسوشیٹڈ پریس نے رپورٹ دی ہے کہ لیبیائی انقلابیوں نے طرابلس میں قذافی کی فورسز کے چیف کمانڈر کو گرفتار کیا ہے اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ایک بہت بڑے گودام پر قبضہ کرلیا ہے۔
الجزیرہ چینل نے بریکنگ نیوز کے تحت اعلان دیا کہ انقلابی فورسز دارالحکومت طرابلس کے مرکز میں قرقاش کے علاقے پر قابض ہوگئے ہیں اور قذافی ملیشیاؤں کے اہلکار تیزی سے فرار ہورہے ہیں۔
ڈیڑھ بجے صبح پیر 22 اگست 2011الجزیرہ نے اعلان کیا کہ انقلابی بدستور پیشقدمی کررہے ہیں اور طرابلس کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ 1:50 بجے پیر 22 اگست 2011العالم نے نیٹو اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ دی کہ قذافی حکومت کا تخت الٹ گیا ہے۔ 2:13 بجے پیر 22 اگست 2011عبوری کونسل کے سربراہ «مصطفی عبدالجلیل» نے اعلان کیا کہ اگر قذافی اور اس کے بیٹے حکومت چھوڑنے کا اعلان کریں تو وہ جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ ایسوشیٹڈ پریس نے رپورٹ دی ہے کہ انقلابی فورسز طرابلس کے مرکز سے صرف دو میل کے فاصلے پر تعینات ہوئی ہیں جبکہ قذافی کی وفاداروں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آرہی اور وہ تیزی سے فرار ہورہے ہیں۔
2:15 بجے پیر 22 اگست 2011رائٹرز نے دعوی کیا کہ قذافی کے بڑے بیٹے «محمد» نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور وہ انقلابیوں سے جاملا ہے۔دریں اثناء الجزیرہ نے اعلان کیا ہے کہ انقلابیوں نے قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو گرفتار کرلیا ہے اور اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کیا رائٹرز کی بات صحیح ہے یا الجزیرہ کی؟ محمد انقلابیوں سے جا ملا ہے یا سیف الاسلام گرفتار ہوا ہے یا پھر یہ دونوں خبریں صحیح ہیں؟
2:22 بجے پیر 22 اگست 2011قذافی ریڈیو پر خطاب کررہے ہیں۔ وہ اپنے حامی قبائل سے اپیل کررہے ہیں کہ طرابلس کی طرف آئیں اور ان کی حمایت کریں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہ قذافی کا تیسرا ریڈیو پیغام ہے۔ ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ عالم عرب کی تاریخ میں پہلی بار کوئی حاکم 24 گھنٹوں میں تین بار پیغام دے رہا ہے۔
2:30 بجے پیر 22 اگست 2011عبوری کونسل کے سربراہ «مصطفی عبدالجلیل» نے اعلان کیا: ہم نے سیف الاسلام قذافی کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس اعلان سے الجزیرہ کی رپورٹ کی تصدیق ہوگئی ہے لیکن رائٹرز کی خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔سی این این نے بھی مصطفی عبدالجلیل کے حوالے سے سیف الاسلام کی گرفتاری کی خبر بریکنگ نیوز کے عنوان سے اپنی ویب سائٹ پر شائع کردی۔
2:35 پیر 22 اگست 2011انقلابیوں نے طرابلس کے میدان خضراء (گرین اسکوائر) پر قبضہ کرلیا۔ ذرائع ابلاغ نے گرین اسکوائر میں عوام کے جشن کی تصویریں شائع کی ہیں۔ یہ میدان طرابلس کے مرکز میں واقع ہے اور اس کے ارد گرد قذافی کے محلات واقع ہیں۔ 2:50 پیر 22 اگست 2011ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق دو ہوائی جہاز طرابلس کے سول ائیرپورٹ پر اترے ہیں۔ یہ ہوائی جہاز جنوبی افریقہ کی جانب سے آئے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ قذافی اپنے باقی ماندہ افراد خاندان کے ہمراہ لیبیا سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ 2:55 پیر 22 اگست 2011سیٹلائٹ چینلز بن غازی سے خوشی اور شادمانی کی رپورٹیں دے رہی ہیں جہاں جشن کا سماں ہے اور لوگ آتش بازیوں میں مصروف ہیں۔3:00 پیر 22 اگست 2011الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ لیبیا کی انٹیلیجنس کا بیٹا جھڑپوں میں مارا گیا ہے۔
3:15 پیر 22 اگست 2011بیبیسی عربی نے انقلابیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ قذافی الجزائر فرار ہوگئے ہیں۔
3:22 بجے صبح پیر 22 اگست 2011انقلابیوں نے اعلان کیا کہ پورے دارالحکومت پر ان کا کنٹرول ہے صرف باب العزیزیہ میں مختصر سی مزاحمت ہورہی ہے۔ 3:26 بجے صبح پیر 22 اگست 2011پورے لیبیا میں جشن کا سماں ہے اور لیبیائی عوام خوشی منا رہے ہیں۔3:30 بجے صبح پیر 22 اگست 2011بین الاقوامی جنگی جرائم کی عدالت کے ایک اہلکار نے دعوی کیا ہے کہ معمر قذافی بھی گرفتار ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔ابنا:بعض خبریں غیر مصدقہ ہیں