20 اگست 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے غزہ پٹی پر صہیونی ریاست کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کی ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے غزہ پٹی میں نہتے اور روزہ دار فلسطینیوں پر صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد اپنی داخلی مشکلات سے فرار اختیار کرنا اور عالمی یوم القدس سے قبل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورت حال سے علاقے اور دنیا کی رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کے خلاف اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس قسم کے غیرانسانی اقدامات کو روکنے کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کریں۔ غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے جنگي طیاروں کے ہوائی حملوں میں کم از کم سولہ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ صہیونی ریاست کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل میں آٹھ صہیونی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے ہیں اسطرح وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ گویا وہ صرف جواب کاروائی کے طور پر ہی غزہ کے شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ فلسطینی ذرائع کہتے ہیں کہ دو ہزار نو میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے باوجود غزہ پر اسرائیل کے حملے کبھی بھی نہیں رکے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں گذرا جب صہیونی فوجیوں نے جارحیت نہ کی ہو۔جیساکہ عرض کیا گیا غاصب صہیونی ریاست ان حملوں کا اصل مقصد اپنی داخلی مشکلات سے فرار اختیار کرنا اور عالمی یوم القدس سے قبل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورت حال سے علاقے اور دنیا کی رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے۔ مبصرین کی نگاہ میں ان حملوں کی دوسری وجہ علاقے میں جاری انقلابی اور عوامی تحریکوں سے لاحق وہ خدشات ہیں کہ جن سے صہیونی ریاست کے ہمدردوں کے وجود خطرے میں پڑگیا ہے۔یوم قدس کے موقع پر دنیا کے سبھی ملکوں میں مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے ضمن قدس شریف کی صہیونیوں کے چنگل سے رہائي کا عزم کرتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے کہ جو اسرائیل اور اس کے ہمنواؤں پر گراں ہے ۔فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تو مراکش کے فرمانروا، اردن کے بادشاہ، سعودی عرب کے سلطان ہمیشہ ہی کرتے رہے ہیں لیکن اس سے زیادہ پر نہ تو وہ کبھی تیار ہوئے اور نہ ہی کسی اور کو اس کی اجازت دیتے ہیں کہ کوئی فلسطین کی آزادی اور قدس شریف کی رہائي کے لئے قدم آگے بڑھائے چنانچہ اگر کبھی کسی نے کو سنجیدہ قدم اٹھانے کی کوشش بھی کی تو اس کی ان ملکوں کی طرف سے سخت حوصلہ شکنی کی گئی یہی وجہ ہے کہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی(رح) نے ایک بڑا انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ قائم شاہی حکومت کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات پر کاری وار لگاتے ہوئے فلسطینی قوم کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا تو بعض ملکوں میں گویا بھونچال آگیا۔ ایران جیسا ملک جہاں کبھی اسرائیلی آزادانہ رفت آمد کیا کرتے تھے اور فلسطینیوں پر اس کے دروازے بند تھے، صہیونیوں کے لئے جنم بن گیا۔ تہران میں واقع اسرائیلی سفارتخانے کو فلسطینیوں کے حوالے کردیا گيا جہاں آج بھی فلسطین کا سفارتخانہ قائم ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس زمانے میں عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے باوجود، قدس کی آزادی کےلئے انقلابی گارڈ مشتمل ایک خصوصی بٹالین تشکیل دے کر اسے شام روانہ کردیا گیا جبکہ اسی قدس بٹالین کے سپاہی لبنانی مسلمانوں کی نجات کے لئے وہاں تعینات کئے گئے لیکن ہوا یہ کہ برسوں سے صہیونی ریاست کی مخالفت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ممالک خصوصا" اردن، مراکش، سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور چند ایک دیگر اسلامی ممالک کو سانپ سونگھ گیا حتی یاسرعرفات سمیت پی ایل او کی قیادت بھی اس جہاد سے بے گانہ نظر آنے لگی جس کا وہ اپنی انگلیوں سے وکٹری بناکر ہمیشہ اظہار کیا کرتے تھے، اور جلد ہی زمانے نے اس کا بھی مشاہدہ کرلیا کہ جہاد فلسطین کی علامت اور جہادی تنظیموں کے ہیرو یاسرعرفات نے نہایت ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈالدیئے اور سرجھکاکر جس خفت اور شرمساری کے ساتھ صیہونی حکومت کے وزير اعظم سے ہاتھ ملایا اسے تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا۔ سوال یہ ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کی قیادت کے دعویداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور اپنی قوم کا سودا کرلیں؟ کیا انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو، مادر وطن کا متولی ظاہر کریں اور جب قوم ان کے ساتھ ہوجائے تو وہ جاکر صہیونیوں سے ہاتھ ملالیں؟ ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قوم اور تقدیر کا فیصلہ جیسے چاہیں کریں لیکن کیا انہیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو بھی صہیونیوں کے ہاتھوں بیچ دیں۔ بطور مثال اگر آج صہیونی ریاست یا امریکہ مکہ مکرمہ پر قبضہ کرلیں اور سعودی شہزادے اپنی آسائش اور اقتدار کو محفوظ رکھنے کی خاطر اس پر راضی ہوجائیں تو عالم اسلام کا کیا فریضہ ہے؟ کیا اس کو سعودی حکومت کا داخلی معاملہ قرار دےکر مکہ مکرمہ سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے؟ ظاہر کہ مسلمان عالم ہرگز اس چیز کو بداشت نہیں کرسکتے، بس یہی صورتحال اس وقت فلسطین اور قدس شریف کی ہے چنانچہ مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ قدس شریف کی رہائی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔اسی پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای بھی خاص تاکید فرماتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ستر سال کے بعد وسطی ایشیا کی جمہوریاؤں نے کہ جس کا کوئی تصور تک نہیں کرتا تھا آزادی حاصل کی ہے اسی طرح سرزمین فلسطین بھی آزاد ہوجائے گی۔ 
............

/169