ابنا: رمزی کلارک نے ارنا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکی حکمرانوں کی سب سے بڑی غلطی دنیا میں ایران کو تنہا کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ انہوں نے دنیا میں ایران کو بدنام کرنے کی بہت کوشش کی اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ عزت کے ساتھ خودمختار زندگی گزارنا چاہتے تھے۔
رمزی کلارک نے اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ میں بعض عاقل افراد کا یہ خیال ہے کہ ایٹمی ایران کو تسلیم کر لینا چاہیے ، کہا کہ ایران کو توانائی کی پیداوار کے بارے میں سوچنے اور اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس راستے میں روکاوٹیں کھڑی کرے۔
امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رمزی کلارک نے اسی طرح عالم اسلام کے ساتھ امریکہ کی دشمنی اور اس کی مخاصمانہ پالیسیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ امریکہ کی ایک غلط پالیسی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ وائٹ ہاؤس دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے اسلام کے ساتھ جنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی اسلامی ممالک واشنگٹن کے ساتھ دوستی کا رابطہ نہیں رکھ سکتے۔
واضح رہے کہ رمزی کلارک انیس سو سڑسٹھ سے لے کر انیس سو انہتر تک امریکہ کے اٹارنی جنرل رہے۔ انہوں نے انیس سو اکانوے میں انسانیت کے خلاف جرم اور عراق پر حملے کے جرم میں امریکہ کے سابق صدر جارج بش اور ان کے بعض کمانڈروں اور کابینہ کے ارکان کے خلاف شکایت کی تھی۔
...........
/169