ابنا: بحرین کے عوام نے گزشتہ رات ان مظاہروں کے دوران آل خلیفہ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نےآل خلیفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سیاسی اصلاحات ، آئین میں ترمیم ، منتخب حکومت کی تشکیل اور مکمل اختیارات کی حامل پارلیمنٹ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گيا تھا۔دوسری جانب آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسز کے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود بحرین کے مختلف علاقوں میں عوام نے کل بھی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری رکھے۔المعامیر ، نویدرات ، شہرکان اور کرانہ علاقوں میں عوام نے بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس موقع پر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت اور آنسوگیس کا وحشیانہ استعمال کیا۔ ادھر بحرین کے ایک انقلابی رہنما کریم المحروس نے مظاہرین پر حملے کو آل خلیفہ حکومت کی ناکامی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسز قابض سعودی فوجیوں کی مدد اور تعاون کے باوجود بھی بحرینی عوام کے مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ درایں اثنا بحرینی علما کی کونسل کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وسط مدتی پارلیمانی انتخابات سے بحرین کے حالات مزید بحرانی ہو جائيں گے۔ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات ملک کے بحران کا حل نہیں ہیں بلکہ ان سے حالات مزید پیچیدہ ہو جائيں گے۔...........
/169