16 اگست 2011 - 19:30

کوئٹہ: ٹینکر کی قیمت 15 سو تک پہنچ گئی’ پانی حاصل کرنے کیلئے ایک ہفتہ ٹینکر کا انتظار کرنا پڑتا ہے’ مکین پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہتے ہیں.

ابنا: واسا نئے اور پرانے ٹیوب ویلز کا چارج لینے سے گریزاں ‘ علاقے کو محکمہ کمیٹیوں کے زریعے تھوڈا بہت پانی فراہم کیا جارہا ہے’ مسلہ حل کیا جائے ، کوئٹہ چلتن ٹو اسکیم سے ہزارہ ٹاون اور ملحقہ علاقوں کے تین لاتھ سے زائد نفوس گزشتہ 20 دن سے پانی کی فراہمی سے محروم ہیں‌ ہزارہ ٹاون میں قلت آب سنگین مسلہ بن چکی ہے اختر آباد کے قریب کھمبے گرائے جانے کے بعد ٹیوب ویلوں‌ تک پانی کی سپلائی معطل ہے ادھر عوام قیمتاً پانی کے حصول میں‌سر گرداں‌ ہیں‌ ٹینکر 15 سو روپے رتک پہنچ گیا ہے ٹینکر مالکان سے پانی کے حصول کیلئے پہلے بکنگ کرنی پٹرتی ہیں‌ منت سماجت اور سفارش کے بعد بہ مشکل ایک ہفتہ بعد کسی گھر میں‌ایک ٹینکر پانی فراہم کیا جاتا ہے لاکھوں‌ افراد پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں‌ ہزارہ ٹاون کو چلتن روڈ اسکیم کے تحت پانی فراہم کیا جارہا ہے راستے میں کئی مقامات پر ہزارہ ٹاون کے حصے کا پانی مبینہ طور پر زبردستی روک دیا جاتا ہے ہزارہ ٹاون کو محلہ کمیٹیوں کے زریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے واسا نئے اور پرانے  ٹیوب ویلز کا چارج لینے سے گریزاں ہے جسکی وجہ سے تقسیم آب کا نظام غیر موثر ہے محلہ کمیٹیوں‌ کے اہلکار تمام صورتحال سے بے خبر مکینوں کے چندوں پر اکتفا کررہے ہیں علاقے کے مکینوں نے کہا کہ بارہا رابطوں‌ ، شکایتوں‌اور احتجاج کے باوجود ہزارہ ٹاون میں پانی کا مسلہ حل نہیں کیا جارہا انہوں‌ نے مطالبہ کیا کہ تقسیم آب کو اس کے ماتحت کیا جائے چلتن ٹو اسکیم سے ہزارہ ٹاون کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے دریں‌اثناء واسا کے افسران سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہمیں کسی بھی مسلے پر موقف دینے سے روک دیا گیا ہے کسی بھی صورتحال کی وضاحت کے مجاز ایم ڈی ہیں .

.............

/169